حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے سے گریز کرے ،ْ شیخ عامر وحید

جمعرات مئی 17:44

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید ، سینئر نائب صدر محمد نوید ملک اور نائب صدر نثار مرزا نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںمزیدکوئی اضافہ کرنے سے گریز کرے کیونکہ اس سے کاروبار کی لاگت میں مزید اضافہ ہو گا جس سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوں گی ، برآمدات میں کمی واقع ہو گی اور معیشت کو نقصان پہنچے گا۔

انہوںنے کہا کہ اوگرا نے ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 12.50روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت میں 8.37روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کی تجویز حکومت کو بھیجی ہے جو موجودہ حالات کے تناظر میں بلاجواز ہے کیونکہ اس سے عوام، کاروبار اور معیشت کیلئے مزید مسائل و مشکلات پیدا ہوں گی۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی تیل سے پیدا ہونے والی بجلی بہت مہنگی ہونے کی وجہ سے کاروبار کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری برآمدات کو عالمی مارکیٹ میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

ان حالات میں اگر پیٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافہ کیا گیا تو پیداواری لاگت مزید اوپر جائے گی جس سے ہماری برآمدات میں مزید کمی واقع ہو گی اور معیشت کو نقصان ہو گا۔ انہوںنے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تقریبا 68ڈالر فی بیرل ہے جس کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافے کا کوئی جواز نہیں بنتا اور اگر کوئی اضافہ کیا گیا تو وہ عوام اور کاروباری برادری پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے کے مترادف ہو گا۔

شیخ عامر وحید نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کئے ہوئے ہیں جس وجہ سے ان مصنوعات کی قیمتیں پاکستان میں پہلے ہی بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت ہائی سپیڈ ڈیزل پر 27.5فیصد اور باقی تمام مصنوعات پر 17فیصد جنرل سیلز ٹیکس وصول کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت ہائی سپیڈ ڈیزل پر 8روپے فی لیٹر اور پیٹرول پر 10روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی چارج کر رہی ہے جس وجہ سے ان مصنوعات کی قیمتیں پاکستان میں بہت زیادہ ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کوئی اضافہ کرنے کی بجائے حکومت ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں کمی کرے جس سے کاروبات کی لاگت کم ہو گی، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے گا، برآمدات میں اضافہ ہو گا اور معیشت بہتر ترقی کریگی۔