سپریم کورٹ نے صوبو ں میں ایک ماہ کے دوران گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کے تبادلوں کی تفصیلات طلب کر لیں

تقرر و تبادلوں کا جائزہ لے کر ان سے متعلق فیصلہ دیں گے ‘ موجودہ حکومت ایسے تبادلے نگران حکومت کیلئے چھوڑ دیتی‘وزیر اعلیٰ آفس کے افسران کو پر کشش عہدوں پر ٹرانسفر کیا جا رہاہے‘ایسی تمام تقرریاں بدنیتی پر مبنی ہیں چیف جسٹس ثاقب نثار کے الیکشن کمیشن کی بھرتیوں اور تبادلوں پر پابندی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس

جمعرات مئی 18:14

سپریم کورٹ نے صوبو ں میں ایک ماہ کے دوران گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بھرتیوں اور تبادلوں پر پابندی سے متعلق کیس صوبو ں میں ایک ماہ کے دوران گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کے تبادلوں کی تفصیلات طلب کر لیںجبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے ہیں کہ تقرر و تبادلوں کا جائزہ لے کر ان سے متعلق فیصلہ دیں گے ‘ موجودہ حکومت ایسے تبادلے نگران حکومت کیلئے چھوڑ دیتی‘وزیر اعلیٰ آفس کے افسران کو پر کشش عہدوں پر ٹرانسفر کیا جا رہاہے‘ایسی تمام تقرریاں بدنیتی پر مبنی ہیں۔

(جاری ہے)

جمعرات کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں الیکشن کمیشن کی جانب سے بھرتیوں اور تبادلوں پر پابندی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہونے والے تقرر و تبادلے عدالتی فیصلے سے مشروط ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تقرر و تبادلوں کا جائزہ لے کر ان سے متعلق فیصلہ دیں گے۔ وزیر اعلیٰ آفس کے افسران کو پر کشش عہدوں پر ٹرانسفر کیا جا رہاہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ایسی تمام تقرریاں بدنیتی پر مبنی ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ موجودہ حکومت ایسے تبادلے نگران حکومت کیلئے چھوڑ دیتی۔ سپریم کورٹ نے صوبوں میں ایک ماہ کے دوران گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کے تبادلوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔ …