قومی اسمبلی اجلاس میں5 سال ایوان کوبہترین چلانے پراللہ کا شکر ادا کرتا ہوں،سردار ایا ز صادق

تمام سیاسی جماعتوں کے تعاون پرمشکور ہوں، مجھے حکومت اور اپوزیشن دونوں کا تعاون حاصل رہا،پارلیمنٹ نے اب تک 187 قوانین پاس کیے،پانچ آئینی ترامیم بھی منظورکیں ، 21 پرائیویٹ ممبران کے بل پاس کیے گئے، سپیکر قومی اسمبلی کا لوداعی اجلاس میں اظہار خیا ل

جمعرات مئی 18:01

قومی اسمبلی اجلاس میں5 سال ایوان کوبہترین چلانے پراللہ کا شکر ادا کرتا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں سپیکر سردار ایا ز صادق نے کہا ہے کہ کہ قومی اسمبلی اجلاس میں5 سال ایوان کوبہترین چلانے پراللہ کا شکر ادا کرتا ہوں،تمام سیاسی جماعتوں کے تعاون پرمشکور ہوں، مجھے حکومت اور اپوزیشن دونوں کا تعاون حاصل رہا، موجودہ پارلیمنٹ نے اب تک 187 قوانین پاس کیے،پانچ آئینی ترامیم بھی منظورکیں جبکہ 21 پرائیویٹ ممبران کے بل پاس کیے گئے، جمعرات کو قومی اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں اظہار خیا ل کر تے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی اجلاس میں5 سال ایوان کوبہترین چلانے پراللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔

تمام سیاسی جماعتوں کے تعاون پرمشکور ہوں۔ مجھے حکومت اور اپوزیشن دونوں کا تعاون حاصل رہا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 1988 سے 90 تک کی اسمبلی میں 13 قوانین پاس کیے گئے۔1990 سے 93 تک 60 قوانین پاس کیے گئے۔ 1993 سے 96 تک 54 قوانین پاس کیے گئے۔1997 سے 99 تک 51 قوانین پاس کیے گئے۔ 2002 سے 2007 تک اسمبلی نے 38 قوانین پاس کیے۔2008 سے 2013 تک کی اسمبلی نے 93 قوانین پاس کیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ نے اب تک 187 قوانین پاس کیے۔

پانچ آئینی ترامیم بھی منظورکیں جبکہ 21 پرائیویٹ ممبران کے بل پاس کیے گئے۔ اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی نے تعاون پرتمام ممبران اورپارلیمانی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خورشید شاہ کا بھی شکرگزار ہوں کہ حکومت اور اپوزیشن کی تنقید وہ برداشت کرتے رہے، جمہوریت کیلئے ان کا کردار تاریخی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کی رہنمائی مجھے گاہے بگاہے ملتی رہی ہے، ریاض حسین پیرزادہ کا پارلیمنٹ میں کردار اہم رہا ہے، نوید قمر ویسے تو بہت نرم ہیں لیکن ایشوز میں بہت سخت ہیں، شاہ محمود قریشی نے بھی پارلیمنٹ میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے سابق دوست عمران خان کا بھی شکریہ ادا کروں گا کہ انہوں نے اس ہائوس میں جو کردار ادا کیا ہے، صاحبزادہ طارق اللہ اپنا گلہ بھی شرافت میں کرتے تھے،،محمود خان اچکزئی نے جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اہم کر دار ادا کیا ،آفتاب خان شیرپائو کا سابق وزیر داخلہ کی حیثیت سے تجربہ تھا، مولانا فضل الرحمان نے بھی میری بہت رہنمائی کی ہے، اس دوران بعض ارکان اسمبلی نے شیخ رشید کا نام لینے کیلئے بھی آواز لگائی، جس پرسپیکر نے کہا کہ میں شیخ رشید اور جمشید دستی کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے خواتین پارلیمنٹیرینز کے کردار کو بھی سراہا اور میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔