آزاد کشمیر میں فائز سیزن کی وجہ سے جنگلات میں آگ لگ جاتی ہے جس سے جنگلات کا نقصان ہو رہا ہے ‘

آگ سے جنگلات کو محفوظ بنانے کیلئے حکومت ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے ‘کوٹلی اور سہنسہ میں جنگلات میں لگی آگ سے قومی دولت کا ضیائع ہوا ‘اس کی حفاظت اور آگ سے بچائو کیلئے عوام محکمہ کا ساتھ دے وزیر جنگلات سردار میراکبر خان کی میڈیا سے بات چیت

جمعرات مئی 17:49

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) وزیر جنگلات سردار میراکبر خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں فائز سیزن کی وجہ سے جنگلات میں آگ لگ جاتی ہے جس سے جنگلات کا نقصان ہو رہا ہے آگ سے جنگلات کو محفوظ بنانے کے لئے حکومت ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے کوٹلی اور سہنسہ میں جنگلات میں لگی آگ سے قومی دولت کا ضیایع ہوا اس کی حفاظت اور آگ سے بچاو کے لئے عوام محکمہ کا ساتھ دے تاکہ جنگلات کو آگ سے بچایا جا سکے محکمہ جنگلات کے اہلکاران دن رات ایک کر کے جنگلات کی حفاظت کو یقینی بناہیں اور عوام کے ساتھ ملکر آگ بجھاہیںدنیا میں جدید تعمیر و ترقی ماحول کو تباہ کر رہی ہے جس کا سدباب ضروری ہے ہماری بدقسمتی ہے کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مضر گیسیں پھیل کر ماحول اور انسانی صحت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے سائنسی علم نے ان گیسوں سے زیادہ فائدہ سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے مگر اب وقت کی ضرورت ہے اب دنیا کے ساتھ ملکر اس کو کم کرنے کی ضرورت ہے ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے برف پگھل کر ہماری زراعت و زندگی کو نقصان پہنچاتے ہیں درخت لگا کر اس نقصان سے بچایا جاسکتا ہے دنیا میں وہ قومیں زندہ رہتی ہیں جو آنے والے وقت اور حالات کو پیش نظر رکھ کر لانگ ٹرم منصوبہ بندی کرکے دنیا و انسانیت کو بچاتی ہے عام انسان تک ماحولیات اور جنگلات کے حوالے سے معلومات پہنچا کر ماحول اور انسانیت کو بچایا جاسکتا ہے درخت ایک ایسی لازوال نعمت ہے جس میں آنے والی نسلو ں کی زندگی ہے اور ہم پوری کوشش کررہے ہیں اس قومی دولت کو بچا کر دنیا و آخرت میں سرخرو ہوسکیںموجودہ بجٹ یہ خطہ کی تعمیر و ترقی کا حقیقی آئینہ دار ہے موجودہ بجٹ میں محکمہ جنگلات جنگلی حیات و فشریز سیکٹر کیلئے 55کروڑ روپے رکھے جانے کی تجویز ہے اس رقم سے 80لاکھ نرسری پودہ جات کی تیاری، 11000ایکڑ رقبہ پر شجرکاری20,000 ایکڑ رقبہ جنگلات کی حد بندی کر کے 5000پختہ اور نیم پختہ برجیات کی تعمیر کی جائے گی جنگلی حیات وفشریز سب سیکٹر کے تحت بنجوسہ اور پیرچناسی چڑیا گھر کی تعمیر جاری رکھی جائے گی جبکہ منگلا چڑیا گھر اور مہاشیرہچری کا کام مکمل کیا جائے گاان خیالات کا اظہار انھوںنے صحافیوں کے وفد سے گفتگو کر تے ہو ئے کیا ۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ ہم وسائل کے کمی کے باوجودماحول اور ماحولیات تبدیلیوں سے نبر د آزماہونے کے لیے تمام حکومتی وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جنگلات میں آگ کی وجہ سے جنگلی حیات بھی متاثر ہو رہی ہیں اس لئے ہم سب کی یہ دینی ذمہ داری ہے کہ ان نایاب جانوروں کی حفاظت کے لیے زیادہ سے زیادہ جنگلات لگائیں اور شجرکاری کو فروغ دیں اور جنگلات میں آگ نہ لگاہیں اور اس کو ذاتی دولت سمجھکر اس کی حفاظت خود کریں ۔

انھوں نے کہا کہ دنیا میں جتنی بھی ترقی ہوئی ہے اُس میں انسانی زندگی کو ہونے والے نقصانات کی طرف توجہ نہیں دی گئی اور اب دنیا اسطرف توجہ دے رہی ہے انھوں نے کہا کہ اب عوام میں جنگلات کی حفاظت کے حوالے سے شعور بیدار ہوچکا ہے اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت حفاظت کررہے ہیں اور اس میں مزید بہتر ی لائیں گے انھوںنے کہا کہ ہماری ضرورت زیادہ ہے اورجنگلات کم ہیں اس کے لیے بہتری لایں گئے ۔

متعلقہ عنوان :