امن بھائی چارے اور ملی یکجہتی کیلئے ضروری ہے کہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ہم سب سے پہلے پاکستانی بنیں

معروف سماجی تنظیم ثمرفاونڈیشن کے چیئرمین چوہدری ثمرسراج کی بات چیت

جمعرات مئی 17:14

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) معروف سماجی تنظیم ثمرفاونڈیشن کے چیئرمین چوہدری ثمرسراج نے کہا ہے کہ امن بھائی چارے اور ملی یکجہتی کیلئے ضروری ہے کہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ہم سب سے پہلے پاکستانی بنیں کیونکہ ہمارے بزرگوں نے آزادی کیلئے جو قربانیاں دی تھیں اور جس مقصد کیلئے اپنے گھر بار چھوڑے، لاکھوں مسلمان شہید ہوئے، ہزاروں مسلمان خواتین کی عصمت دری ہوئی جو کہ ایک عظیم مقصد کیلئے ہی کیا جا سکتا ہے اور وہ عظیم مقصد پاکستانیت کے نام پر ایک ایسی اسلامی ریاست کا قیام تھا جو روئے زمین پر ریاست (مدینہ) کے بعد ایک بڑی اسلامی ریاست (اسلامی جمہوریہ پاکستان)) کے نام سیمعرض وجود میں آئی۔

لیکن بدقسمتی سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس ملک میں نہ ریاست (مدینہ) جیسا نظام نافذ ہوسکا اور نہ وہ ثمرات عام لوگوں کو مل سکے جو مراعات یافتہ طبقے کو ملتے رہے ہیں۔

(جاری ہے)

یہاں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور طبقاتی نظام نے جڑیں پکڑ کر نہ صرف نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے بلکہ امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ بھی بڑھادیا ہے اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ صاحب اقتدار شخصیات یا تو انصاف کیلئے کچھ کر نہیں سکے یا چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں گزشتہ روز میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نیکہاکہ اگر ایک ملک کے اندر اس قسم کا امتیازی سلوک روا رکھا جائے جو رنگ، نسل یا علاقائی اور لسانی بنیادوں پر متعارف ہوجائے تو پھر آوازیں اُٹھنا اور (ساڈھا حق ایتھے رکھ) جیسے مطالبات فطری عمل ہے جس سے نظریں چرانے والے نہ صرف احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں بلکہ وہ دورِ حاضر کے چیلنجز اورماضی کے تجربات سے بھی نا اشنا ہیں۔

لہٰذا پر امن اور مستحکم پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ مقتدر قوتیں اور وہ تمام ادارے جن کے پاس اختیار ہے عملی طور پر انصاف کے تقاضے پورے کرکے اس خلیج ، اضطرابی کیفیت اور بے چینی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ پس اگر مستقبل میں زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر ایسے فیصلے کیے جائیں گے جن میں رنگ، نسل، علاقائی اور لسانیت کے نام پر اٹھنے والے تمام منفی پہلووں کو ہم شکست دے کرسب سے پہلے پاکستانی ہونے کے عملی ثبوت دینے میں کامیاب ہو جائیں گے تو سارے مسئلے خود بخود حل ہوجائیں گے ۔ بصورت دیگر یہ سارے عوامل کارِفرما رہیں گے۔

متعلقہ عنوان :