پی ٹی آئی کے نامزد ناصردرانی کی نگراں وزیراعلیٰ بننے سے معذرت

تحریک انصاف نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب کیلئےحسن عسکری اورناصر درانی کےناموں پراتفاق کیا تھا،اب پی ٹی آئی کو مزید نام تلاش کرنا ہوں گے۔میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات مئی 17:30

پی ٹی آئی کے نامزد ناصردرانی کی نگراں وزیراعلیٰ بننے سے معذرت
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔31 مئی 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف کے نامزد کردہ نام ناصر درانی نے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب بننے سے معذرت کرلی،،تحریک انصاف نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے حسن عسکری اورناصر درانی کے ناموں پر اتفاق کیا تھا،اب پی ٹی آئی کو مزید نام تلاش کرنا ہوں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف نے ناصر محمود کھوسہ کو مسترد کرنے بعد پارٹی میں مشاورت میں نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے دو نام طے کیے تھے۔

ان ناموں میں سینئر دفاعی تجزیہ کار حسن عسکری اور سابق آئی جی خیبرپختونخواہ ناصر درانی کے نام شامل ہیں۔ تاہم ان ناموں میں سابق آئی جی خیبرپختونخواہ ناصر درانی نے نگران وزیراعلیٰ بننے سے معذرت کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری صحت اجازت نہیں دیتی کہ میں نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی ذمہ داری نبھا سکوں گا۔

(جاری ہے)

پی ٹی آئی نے جب یہ دو نام نامزد کیے توان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر حسن عسکری اور ناصر درانی اچھی شہرت کی حامل شخصیات ہیں۔

ناصردرانی سابق آئی جی پولیس خیبرپختونخواہ بھی رہ چکے ہیں۔
تاہم اب ناصر درانی کی معذرت کے بعد تحریک انصاف کو ایک بار پھر نئے ناموں کی تلاش کرنا ہوگی۔ کیونکہ دو نام پارلیمانی کمیٹی یا الیکشن کمیشن کو دیے جائیں گے۔ واضح رہے تحریک انصاف نے اس سے قبل نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے ناصر محمود کھوسہ کا نام دیا تھا۔ جس پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے درمیان اتفاق کے بعد باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران اس نام کو پبلک کردیا گیا۔

تاہم پی ٹی آئی کے مطابق انہیں سوشل میڈیا پر ناصر محمود کھوسہ کا نام نامزدکرنے پر شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔ جس پرتحریک انصاف ناصر کھوسہ کے نام کو واپس لینے پر مجبور ہوئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں طے پایا کہ ناصر کھوسہ کا نام واپس لیا جائے۔ بعدازاں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے اپنے ہی نامزد کردہ نگران وزیراعلیٰ ناصر کھوسہ کے نام کو واپس لینے کا اعلان کردیا۔

دوسری جانب آج الیکشن کمیشن آفس کے باہر وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نےمیڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تحریک انصاف نے انتہائی غیرسنجیدہ رویہ اپنایا ہے۔نگراں وزیراعلیٰ کے نام پر یوٹرن لے لیا۔اس طرح کبھی نہیں ہوا کہ اتفاق کے بعد فیصلہ واپس لیا جائے۔۔وزیراعلیٰ پنجاب اور اپوزیشن لیڈر میں نگراں وزیراعلیٰ کیلئے تین دن مشاورت کی گئی۔

آئین کے مطابق ناصر کھوسہ کا نام طے کیا گیا ہے۔پھر ناصر کھوسہ کے نام پرپروپیگنڈا کیا گیا۔اب انہوں نے کنفیوژن پیدا کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اب دو نام اور دیے ہیں ۔ ان کے اوپرغور کیا جائے گا۔کیونکہ ناصر کھوسہ کیلئے گورنرآج رات تک آئینی و قانونی طور پر نوٹیفکیشن جاری کرسکتے ہیں۔اگر وہ نہیں نوٹیفکیشن جاری نہیں کرتے تو پھر دیکھا جائے گا کہ اب نام پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا یا الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا۔کیونکہ آج رات تک مشاورت ہوسکتی تھی۔اس موقع پرزاہد حامد نے کہا کہ حلقہ بندیوں سے متعلق درخواستیں ذاتی حیثیت میں ہیں۔