دھان کی منظور شدہ اقسام کی کاشت7جون تک کی جا سکتی ہے، محکمہ زراعت پنجاب

جمعرات مئی 17:42

لاہور۔31 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ دھان کی اقسام اری6، کے ایس 282، کے ایس کے 133، کے ایس کے 434، نیاب اری 9 اور نیاب 2013 کی پنیری کی کاشت 7 جون تک کی جاسکتی ہے۔ترجمان نے کہا کہ کاشتکار سپر باسمتی، باسمتی 385، باسمتی پاک (کرنل باسمتی)، باسمتی 515، پی ایس 2، پی کے 386، چناب باسمتی، پنجاب باسمتی، نور باسمتی اور نیاب باسمتی 2016 یکم جون تا 20 جون تک کاشت کریں۔

شاہین باسمتی اور کسان باسمتی 15 جون تا 30 جون تک کاشت کریں جبکہ دوغلی اقسام آرائز سوئفٹ، وائے 26، پرائیڈ1، شہنشاہ 2 اور پی ایچ بی 71 کی پنیری 15 جون تک کاشت کی جائے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اگر پنیری کمزور نظر آئے تو 250 گرام یوریا یا 400 گرام کیلشیم امونیم نائٹریٹ فی مرلہ کے حساب سے پنیری کی منتقلی سے دس دن پہلے ڈالیں۔

(جاری ہے)

دھان کی پنیری پر زہر پاشی دوبار کی جائے۔

پہلی بار 8 تا 10 دن کی پنیر ی پر دھوڑا یا سپرے کی شکل میں اور دوسری مرتبہ 15 تا 20 دن کی پنیری پر دانے دار زہروں کا استعمال کریں۔ چاول کی اچھی پیداوار کے لیے کھیت میں پنیری منتقل کرنے سے پہلے 15 دن تک پانی کھڑا رکھیں اور پھر کدو کریں۔ پانی کی کمی کی صورت میں کدو کرنے کے لیے کھیت میں 7 دن تک پانی کھڑا کیا جائے لیکن پانی کی شدید کمی کی صورت میں کم از کم 3 دن تک پانی کھڑا رکھیں اور کدو کریں۔ محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے مزید بتایا ہے کہ پاکستانی دھان کی مانگ پوری دنیا میں بڑھ رہی ہے اور رواں برس حکومت پنجاب نے 44 لاکھ48 ہزار ایکڑ رقبہ پر دھان کی کاشت کا پیداواری ہدف مقرر کیا ہے اور اس ٹارگٹ کو یقینی طور پر پورا کیا جائے گا۔