مختلف اضلاع میں بنائی گئی ماڈل کورٹس نے دسمبر 2017تک 21,238مقدمات کا فیصلہ کیا

جمعرات مئی 18:22

لاہور۔31 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) عرصہ دراز سے زیرِ التوا فوجداری مقدمات کے جلد فیصلوںکیلئے مختلف اضلاع میں بنائی گئی فوجداری اور دیوانی عدالتوں نے دسمبر 2017تک کٴْل21,238مقدمات کا فیصلہ کیا جن میں 5,384فوجداری اور15,854 دیوانی مقدمات کے فیصلے شامل تھے۔۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد یاور علی نے بھی ماڈل کورٹس کی اہمیت کے مدِّ نظر انصاف کی بر وقت اور بلا تعطل فراہمی کے لیے ماڈل کورٹس میں مزید توسیع کی ہدایت کی جسکی روشنی میںماڈل سول کورٹس کو باقی 32 اضلاع میں توسیع دینے کے علاوہ تمام اضلاع میںماڈل فیملی کورٹس بھی قائم کر دی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

اس سے قبل سپریم کورٹ کے مسٹرجسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی رہنمائی میںفروری2017 میں ماڈل سیشن کورٹس چار اضلاع ، اٹک ، چنیوٹ ، نارووال اور وہاڑی میں قائم کی گئیں اور بعد ازاں اِن ماڈل کورٹس کو لودھراں، منڈی بہائو الدین اور راولپنڈی کے اضلاع تک توسیع دی گئی۔ ماڈل سیشن کورٹس کی بہترین کارکردگی کومدِّ نظر رکھتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس منصوبے کو دیوانی مقدمات کی حد تک توسیع دینے کی ہدایت کی،نتیجتاً ضلع بہاولنگر، جہلم ، مظفر گڑھ اور راولپنڈی میں ماڈل سول کورٹس برائے تجویز مقدمہ اور اپیل قائم کی گئیں۔