مذاکرات کی بھارتی پیشکش مبہم اور مشکوک ہے‘ مفتی ناصر الاسلام

جمعرات مئی 18:28

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر کے نامزد مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے بھارت کو اسکے دوہرے معیار پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے کہا ہے کہ نئی دلی کی مذاکرات کی پیشکش مبہم اور مشکوک ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مفتی ناصر الاسلام نے سرینگر میںجاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی قیادت کے اندر بات چیت کے حوالے سے یکسانیت موجود نہیں ہے کیونکہ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ سشما سوراج نے مذاکرات کے حوالے سے تضاد بھرے بیانات جاری کیے ہیں۔

انہوںنے کہا کہ راجناتھ ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ بات چیت ہونی چاہیے کہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے تک بات چیت نہیں ہو سکتی لہذا یہ بات کسی کو نہیں معلوم ان دونوں میں سے کون سچ کہہ رہا ہے۔

(جاری ہے)

مفتی ناصر الاسلام نے کہا کہ بھارت کو بات چیت کے آغا ز سے پہلے چند اقدامات یقینی بنانا ہونگے جو یہ ہیں کہ وہ کشمیر کو ایک مسئلے کے طور پر تسلیم کرے، مقبوضہ علاقے میں نافذ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ اور دیگر کالے قوانین منسوخ کرے اور فوج کو واپس بیرکوں میں لے جائے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات روبہ عمل لانے کی صورت میں ہی بات چیت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔ مفتی ناصر الاسلام نے جنگ بندی کے اعلان پر بھی بھارت کو تنقید کو نشانہ بنا تے ہوئے کہا کہ بھارتی قیادت یہ کہہ رہی ہے کہ جنگ بندی رمضان المبارک کی وجہ سے کی گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کا مقصد امرناتھ یاترا کو پر امن بنانا ہے۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری چاہتے ہیں کہ مقبوضہ وادی میںامن قائم ہو لیکن امن کشمیریوںکی خواہشات کی قیمت پر قائم نہیں ہوسکتا۔