سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل سے متعلق لاہور اور کراچی میں زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا

احتساب عدالتوں کو دس دنوں میں این آئی ایل سی کے چاروں ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کا حکم

جمعرات مئی 18:39

سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل سے متعلق لاہور اور کراچی میں زیر التوا ..
لاہور۔31 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل سے متعلق لاہور اور کراچی میں زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا اور احتساب عدالتوں کو دس دنوں میں این آئی ایل سی کے چاروں ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ این آئی سی ایل مقدمات پر کارروائی ہو رہی ہے۔

نیب کے وکیل نے بتایا کہ کراچی میں زیر سماعت مقدمات میں 72 گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں جبکہ لاہور کے مقدمات میں تین گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ عجیب بات ہے کہ کرپشن کرو پھر رہا ہوجاؤ، جس نے کرپشن کی ہے اسے سزا بھی ملنی چاہیے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے این آئی سی ایل سے متعلق لاہور اور کراچی میں زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

عدالت نے اس مقدمہ کے مفرور ملزم محسن وڑائچ کی گرفتاری کا حکم دے دیا ۔ دوران سماعت نیب حکام نے بتایا کہ ملزم ایاز خان ریمانڈ پر زیر حراست ہے جس پر فل بنچ نے نشاندہی کی کہ یہ کارروائی گزشتہ احکامات سے پہلے کی ہے، یہ بتائیں کہ عدالتی حکم کے بعد کیا کیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے نیب اس کیس میں ملزمان کے ساتھ رعایت کر رہی ہے لیکن نیب کو رعایت برتنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، نیب کی یہ کارکردگی ہے کہ ایک مفرور ملزم گرفتار نہیں کیا جا سکا ۔ سپریم کورٹ نے احتساب عدالتوں کو دس دنوں میں این آئی ایل سی کے چاروں ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔