سپریم کورٹ کا وزراء اور محکموں میں موجود استحقاق کے بغیر رکھی جانے والی گاڑیاں واپس لینے کا حکم

سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا، استحقاق نہ رکھنے والے دیگر وزرا ء ا ور افسران کو بھی طلب کیا جائے گا، عدالت

جمعرات مئی 18:39

لاہور۔31 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے جمعرات کی رات 12 بجے تک وزراء اور محکموں میں موجود استحقاق کے بغیر رکھی جانے والی گاڑیاں واپس لینے کا حکم دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وفاقی کابینہ اور محکموں کے پاس گاڑیوں کی تفصیلات عدالت میں پیش کر دیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 105 گاڑیاں وفاقی حکومت اور کابینہ کے زیر استعمال ہیں، قانون کے مطابق کوئی بھی افسر یا وزیر 1800 سی سی سے زائد گاڑی رکھنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ تفصیلات بیان کرتے ہوئے سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جے یو آئی( ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن کے پاس ایک لینڈ کروزر اور تین ڈبل کیبن گاڑیاں ہیں، وفاقی وزرا ء عابد شیر علی اور کامران مائیکل کے پاس مرسڈیز بینز گاڑیاں ہیں، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے پاس بلٹ پروف گاڑی ہے، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے پاس ایک بلٹ پروف گاڑی ہے۔

(جاری ہے)

عدالت نے استفسار کیا کہ سابق وفاقی وزیر زاہد حامد نے کس قانون کے تحت لگژری گاڑی کا استعمال کیا، عوام اپنے ٹیکس کا پیسہ وزراء کی عیاشی کے لیے نہیں دیتے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو تنبیہ کی کہ گاڑیوں سے متعلق درست تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں، غلط بیانی برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو حکم دیا کہ استحقاق کے بغیر تمام گاڑیاں رات بارہ بجے تک ضبط کر لیں، وزیراعلٰیٰ پنجاب سے دو اضافی اور وزیرقانون رانا ثنا اللہ سے بلٹ پروف گاڑی واپس لی جائے، اگر کسی کو بلٹ پروف گاڑی کی ضرورت ہے تو اپنی جیب سے خرید لے،،عدالت نے سابق وفاقی وزیر کو وضاحت کے لیے آیندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالت استحقاق نہ رکھنے والے دیگر وزرا ء ا ور افسران کو بھی طلب کرے گی۔