آج رات حکومت اپنی5 سالہ مدت پوری کررہی ہے،عمران خان

ملکی سیاست میں ایک طویل تاریک اورسیاہ رات کا خاتمہ ہورہا ہے،پوری قوم آج عشاء کے بعد شکرانے کے نوافل ادا کرے۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا پیغام

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات مئی 18:23

آج رات حکومت اپنی5 سالہ مدت پوری کررہی ہے،عمران خان
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔31 مئی 2018ء) : تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ آج رات موجودہ حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کررہی ہے، ملکی سیاست میں ایک طویل تاریک اورسیاہ رات کا خاتمہ ہورہا ہے،پوری قوم آج عشاء کے بعد شکرانے کے نوافل ادا کرے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں اتنی نااہل اور کرپٹ حکومت کبھی نہیں آئی۔

قوم کا پیسا نااہلی اور کرپشن کی نذر ہوگیا۔ آج رات اس اندھیری رات سے نجات مل جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس موجودہ حکومت نے ملک کے ساتھ دشمنوں سے بھی بڑھ کر سلوک کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج رات 12 بجے موجودہ حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کررہی ہے۔ملکی سیاست میں ایک طویل تاریک اورسیاہ رات کا خاتمہ ہورہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے قوم سے درخواست کی ہے کہ پوری قوم آج عشاء کے بعد شکرانے کے نوافل ادا کرے۔

دوسری جانب تحریک انصاف سے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کا مسئلہ حل نہیں ہوپارہا ہے۔۔تحریک انصاف نے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب ناصر محمود کھوسہ کو متفقہ طور پرنامزد کرنے کے بعد مسترد کردیا تھا۔ آج تحریک انصاف نے ایک بار پھر نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے دو ناموں پر غور کیا۔جن میں سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری اور سابق آئی جی پولیس ناصر درانی شامل ہیں۔

تاہم پی ٹی آئی قیادت نے ایک بار پھر عجلت کا مظاہرہ کیا اور نامزد امیدواروں سے فون کرکے پوچھنا بھی گوارہ نہ کیا جبکہ ان کے نام پبلک کردیے۔حسن عسکری نے تونگراں وزیراعلیٰ کیلئے ہاں کردی۔جبکہ ناصر درانی نے طبیعت ناسازی کے باعث نگراں وزیراعلیٰ پنجاب بننے سے معذرت کرلی ہے۔جس پرتحریک انصاف کو ایک بار پھر نئے نام کی تلاش شروع کردی ہے۔

دوسری جانب وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے ایک سوال پر کہا کہ تحریک انصاف نے انتہائی غیرسنجیدہ رویہ اپنایا ہے۔ نگراں وزیراعلیٰ کے نام پر یوٹرن لے لیا۔اس طرح کبھی نہیں ہوا کہ اتفاق کے بعد فیصلہ واپس لیا جائے۔۔وزیراعلیٰ پنجاب اور اپوزیشن لیڈر میں نگراں وزیراعلیٰ کیلئے تین دن مشاورت کی گئی۔ آئین کے مطابق ناصر کھوسہ کا نام طے کیا گیا ہے۔

پھر ناصر کھوسہ کے نام پرپروپیگنڈا کیا گیا۔ اب انہوں نے کنفیوژن پیدا کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اب دو نام اور دیے ہیں ۔ ان کے اوپرغور کیا جائے گا۔ کیونکہ ناصر کھوسہ کیلئے گورنرآج رات تک آئینی و قانونی طور پر نوٹیفکیشن جاری کرسکتے ہیں۔اگر وہ نہیں نوٹیفکیشن جاری نہیں کرتے تو پھر دیکھا جائے گا کہ اب نام پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا یا الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا۔کیونکہ آج رات تک مشاورت ہوسکتی تھی۔اس موقع پرزاہد حامد نے کہا کہ حلقہ بندیوں سے متعلق درخواستیں ذاتی حیثیت میں ہیں۔