بلوچستان میں سردار ی نظام اب زائد المیعاد ہوچکا ہے ،اس کی کوئی ضرورت نہیں ، سردار عطاء اللہ مینگل

وقت آچکا ہے ہم سرداری نظام سے نکلیں اور اس کا نعم البدل تشکیل دیں ،ذوالفقار علی بھٹو بلوچستان کے بارے میں ایک سیاسی آمر تھے، حکمران بلوچوں کو حقوق نہیں دینا چاہتے ،سابق وزیراعلی بلوچستان کاانٹرویو

جمعرات مئی 18:39

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سرپرست اعلی اور سابق وزیراعلی بلوچستان سردار عطاء اللہ مینگل نے کہاہے کہ بلوچستان میں سردار ی نظام اب زائد المیعاد ہوچکا ہے ،اس کی کوئی ضرورت نہیں وقت آچکا ہے کہ ہم سرداری نظام سے نکلیں اور اس کا نعم البدل تشکیل دیں ،،ذوالفقار علی بھٹو جسے سب جمہوریت پسند کہتے تھے میرے خیال میں بلوچستان کے بارے میں وہ بھی ایک سیاسی آمر تھے حکمران بلوچوں کو حقوق نہیں دینا چاہتے ہیں ،اب میں بوڑھا ہوچکا ہوں وہ بھی گونگے ،اندھے اور بہروں کے سامنے چیخنے کا کوئی فائدہ نہیں ،،چین کو بلوچوں سے نہیں بلوچستان کی سرزمین سے دلچسپی ہے ،انہوں نے یہ بات انگریزی ہیر الڈ میگزین کو کافی عرصے سے خاموش رہنے کے بعد طویل انٹرویو میں کہی ،انہوں نے کہاکہ جو بلوچ کے حق کیلئے لڑ رہے ہیں وہ بھی ابھی تک قبائلیت سے باہر نکل نہیں پائے ہیں ،ہم ایک عام بلوچ سے کیسے امید کرسکتے ہیں کہ وہ قبائلیت چھوڑ دے جبکہ خو دکو قوم پرست کہنے والے لیڈر تک اسے چھوڑنے پر راضی نہیں ،انہوں نے کہاکہ سردار ی نظام اب اپنی زندگی جی چکا ہے اب یہ زائد المیعاد ہوچکا ہے ،اس جدید دنیا میں اسکی کوئی ضرورت نہیں ،،دنیا بہت پہلے اس قبائلیت سے باہر نکل چکی ہے لیکن جب تک بلوچوں کو کوئی نیا نظام متعارف نہیں ہوتا تب تک سردار نظام اسی طرح چلتارہے گا ،لیکن اب وقت آچکا ہے کہ ہم سردار ی نظام سے نکلیں اور اسکا کوئی نعم البدل تشکیل دیں ،انہوں نے کہاکہ اب وہ بوڑھے ہوچکے ہیں ان میں وہ طاقت اور توانائی نہیں کہ کچھ کرسکیں اور اس سے بڑھ کریہ کہ اندھے ،گونگے اور بہروں کے سامنے چیخنے کا فائدہ بھی کچھ نہیں ،،بلوچستان میں آزادی کی اٹھنے و الی تحریکوں کے بارے میں عطاء اللہ مینگل نے کہاکہ سیاسی ،معاشی اور سماجی حقوق سے محرومی ان تحریکوں کی وجہ بنی ہے ،،پاکستان بلوچوں کو حقوق نہیں دینا چاہتا حتی کہ ذوالفقار علی بھٹو جسے سب جمہوریت پسند کہتے تھے میرے خیال میں بلوچستان کے بارے میں وہ بھی ایک سیاسی آمر تھے ،بلوچوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ اکیلے لڑتے ہیں ،جب مری اور مینگل بھٹو کیخلاف مسلح جدوجہد کررہے تھے تو بگٹی قبیلے نے ساتھ نہیں دیا ،اکبر خان بگٹی کے شہادت کے وقت جب بگٹی قبیلہ لڑ رہا تھا تو مینگل نے ساتھ نہیں دیا ،لیکن موجودہ تحریک پرانے تحریکوں سے مختلف لگتی ہے اس میں بلوچوں کا اتفاق نظر آتاہے لیکن پھر بھی قبیلوں میں بکھرے ہوئے ہیں ،ایک اور سوال کے جواب میں سردارعطاء اللہ مینگل نے کہاکہ آ پ کو جتنا درد دیا جائے گا ،آپ اتنے زور سے چیخوگے ،بلوچ کیساتھ بھی یہی معاملہ ہے ،،بلوچستان میں آزادی کا نعرہ ہمیشہ سے لگتا آیا ہے لیکن کم تعداد میں لیکن ابھی واضح انداز میں لگ رہاہے ،،سی پیک کے حوالے سردارعطاء اللہ مینگل نے کہاکہ اس میں بلوچوں کیلئے کچھ بھی نہیں دیکھتا مجھے نہیں لگتاہے کہ اس سے بلوچ کو کوئی فائدہ ملے گا ،،چین کو بلوچ سے وکئی محبت نہیں اس کے مفادات بلوچ سرزمین سے وابسطہ ہیں ،بیرونی امداد کے الزامات کے حوالے سے عطاء اللہ مینگل نے کہاکہ ایران بلوچستان کی آزادی کی کبھی کمک نہیںکریگا کیونکہ اس سے ایرانی بلوچستان میں خطرہ پیدا ہوگا ،ماضی میں افغانستان نے کچھ حد تک بلوچوں کو پناہ دی لیکن وہ خود عالمی اور علاقائی طاقتوں کے بیچ میں پھنسا ہوا ہے کچھ نہیں کرسکتا اور بھارت کا بلوچستان کیساتھ کوئی بلاواستہ تعلق نہیں کہ وہ مدد کرسکے ۔