پولیس شہداء کے ورثاء کیساتھ مذاق بند کیا جائے ، ورثاء کو ذلیل وخوار نہ کیا جائے ،لواحقین

جمعرات مئی 18:40

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) پولیس شہداء کے لواحقین صدام حسین ،جمیل احمد ،شکیل احمد ،صابر شاہ ،نادر حسین ،مرتضی اور نعیم گل نے اپنے ایک جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہاہے کہ پولیس شہداء کے ورثاء کیساتھ مذاق بند کیا جائے ،اور پولیس شہداء کے ورثاء کو ذلیل وخوار نہ کیا جائے ،،پولیس محکمہ کا ایک آفیسر جسکا نام طاہر علائو الدین کا سی ہے ،یہ پولیس آفیسر پولیس شہداء کے ورثاء کو صرف ٹرخا کر گھر واپس بھیجوادیتے ہیں پولیس شہداء کے لواحقین کو باربار نوشکی،لورالائی ،دکی ،نصیرآباد ،جعفرآباد اور دیگر اضلاع سے بلاکر صرف یہ بولتے ہیں کہ پہلے جو بھرتی کئے ہیں یہ ہم لوگوں سے غلطی ہوگئی ہے بس اب آپ لوگوں کو بھرتی نہیں کریں گے ،ایک طرف آئی جی پولیس شہداء کے لوگوں کو افطار پارٹی پر مورخہ 26-05-2018 کو بلاکر لوگوں سے درخواستیں جمع کروادیتے ہیں کہ آپ کا سب سے بڑا مسئلہ بھرتی کرنے کا ہے ،آئی جی پولیس بلوچستان شہداء کے لواحقین کو مورخہ 28-05-2018پولیس لائن میں درخواستیں جمع کرنے کو کہا اور شہداء کے ورثاء کو اپنا حق دیں گے اور اس کے ٹھیک تین دن بعد کو واپس بلاکر شہداء کے لواحقین کو بلاکر صر ف یل لفظ بول دیتے ہیں کہ آپ لوگوں کو بھرتی نہیں کریں گے کیونکہ اب بھائی کی جگہیں پر بھائی کو بھرتی نہیں کریں گے اور جبکہ گورنمنٹ آف بلوچستان کے پالیسی میں بھائی کے جگہ پر بھائی کو بھرتی کرسکتے ہیں لیکن محکمہ پولیس شہداء کے ورثاء کو بھرتی نہیں کرتے ہیں ،آئی جی پولیس سے اپیل کرتے ہیں کہ شہداء کے لواحقین کا کیس طاہر علائوالدین کاسی سے لیکر کسی اور ایماندار اور اچھے آفیسر کو دیاجائے کیونکہ طاہر علائو الدین کاسی نہ تو شہداء کے لواحقین کیساتھ ہمدردی رکھتے ہیں اور کئی سالوں سے شہداء کے ورثاء کو اس آفیسر طاہر علائو الدین کاسی ہاتھوں ذلیل وخوار ہونا پڑتاہے ۔

متعلقہ عنوان :