احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف العزیز سٹیل مل ریفرنس کی سماعت

شہباز شریف نے بتایاالعزیز یہ سٹیل مل میں تین شیئرز ہولڈرز حسین نواز ، رابعہ شہباز اور عباس شریف کی صورت میں مالک ہیں،واجد ضیاء پر خواجہ حارث کی جرح جاری

جمعرات مئی 20:21

احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف  العزیز سٹیل مل ریفرنس کی سماعت
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) احتساب عدالت میں نیب کی جانب سے شریف خاندان کیخلاف دائر العزیز سٹیل مل ریفرنس کی سماعت ، نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ا ستغاثہ کے گواہ اور پانامہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا ء پر جرح کی ۔ واجد ضیاء نے جرح کے دران بتایا کہ شہباز شریف کے بقول العزیز یہ سٹیل مل میں تینشیئرز ہولڈرز حسین نواز ، رابعہ شہباز اور عباس شریف کی صورت میں مالک ہیں۔

(جاری ہے)

پانچ جولائی 2010سے 30جون 2011تک جو امریکیڈالر وصول ہوئے وہ حسین نواز کی طرف سے بطور تحفہ تھے بینک اسٹیٹمنٹ کے مطابق گیارہ لاکھ پچاس ہزار چار سو امریکی ڈالر وصول ہوئے تھے نواز شریف نے یہ رقم ویلتھ اسٹیٹمنٹمالی سال 2011میں ظاہر کرنا تھے۔ 19اکتوبر 2012کو تین چیکس کے ذریعے رقوم نکلوائی گئیں ۔ پندرہ نومبر 2012کو دو لاکھ ڈالر کی رقم نکلوائی گئی ان چیکس کی ادائیگی پاکستانی کرنسی میں کی گئی ۔ جس تاریخ کو ادائیگی ہوئی اس دن ڈالر ریٹ کے مطابق کرنسی ایکسچینج کا اطلاق ہوا ۔ العزیزیہ ریفرنس میں خواجہ حارث کی واجد ضیاء پر جرح ابھی جاری ہے۔ سماعت آج بروز جمعہ صبح نو بجے تک ملتوی کردی گئی ۔ سماعت آج دوبارہ احتساب عدالت اسلام آباد میں ہوگی ۔