ریاست میں ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جو یتیم بچوں کی کفالت کا بڑا کام کر رہے ہیں،وزیر اعظم آزادکشمیر

یتیم بچوں کی پرورش ایسا فلاحی کام ہے جس کا بدل اللہ تبارک و تعالی انسان کو دنیا میں بھی عطا فرماتے ہیں اور آخرت میں بھی اس کیلیے بہت اجر ہے،راجہ فاروق حید ر

جمعرات مئی 20:21

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) وکشمیر کے وزیراعظم راجہ محمدفاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ یتیم بچوں کی پرورش ایسا فلاحی کام ہے جس کا بدل اللہ تبارک و تعالی انسان کو دنیا میں بھی عطا فرماتے ہیں اور آخرت میں بھی اس کیلیے بہت اجر ہے۔۔مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے یتیم بچے اسلامی ملکوں کیلئے بالخصوص اور عالمی اداروں کیلیے بالعموم توجہ کے متقاضی ہیں۔

دنیا میں تنازعات کا بہیمانہ شکار بچے ہوت ہیں اس لئے ہم امن کے لئے کام کرنے کیلیے کمربستہ ہیں۔۔بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم ڈھائے ہیں بچے اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوے۔۔وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار اسلامی کانفرنس تنظیم کی طرف سے ڈکلئیریتیم بچوں کے دن کے حوالے سے اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔

(جاری ہے)

راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ دنیا بھر میں ناگہانی آفات ، بدامنی کے خلاف جنگ ،صحت عامہ کی سہولیات کی کمی‘حادثات ‘ دھشت گردی اور مسلمانوں کے قتل عام کے باعث جہاں ہزاروں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، وہیں لاکھوں بچے بھی یتیم ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بچے تعلیم و تربیت اور مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث معاشرتی اور سماجی محرومیوں اوربے را روی کا شکار ہو رہے ہیں۔۔وزیراعظم نے کہا کہ مستحق یتیم بچے ہم سب کی توجہ چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جو یتیم۔بچوں کی کفالت کا بڑا کام کر رہے ہیں۔انہوں نے معاشرے کے تمام۔طبقوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے گردوپیش پر نظر رکھیں اور ایسے بچوں کی کفالت کیلیے اپنا اپنا معاشرتی اور دینی فریضہ ادا کریں۔

انہوں نے اس موقع پر مقبوضہ کشمیر اور فلسطین اور شام کے ایسے مستحق بچوں کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوے کہا کہ اسلامی ملکوں کو چاہیے کہ وہ ان بچوں کی کفالت کیلیے خصوصی فنڈ قائم کریں۔یاد رہے کہ ملک بھر میں یتیم بچوں کا عالمی دن گذشتہ روز 15رمضان المبارک کو منایا گیا۔ اِسلامی ملکوں کی تنظیم (OIC) نے دسمبر2013ء میں پہلی بار ترکی کی معروف سماجی مددگار تنظیم آئی ایچ ایچ کی تجویز پر تمام اسلامی ملکوں میں 15 رمضان کو یتیم بچوں کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھاجسے دنیا بھر میں یتیم بچوں کی کفالت اور فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والے اداروں اور تنظیموں نے سراہا اور اس پر عمل کیا۔

اس ضمن میں پاکستان میں سینٹ میں ایک قرار داد 264 پیش کی گئی۔ 20مئی 2016ء کو اتفاق رائے سے یہ قرار داد منظور کرتے ہوئے اس کے ذریعے نظر انداز کردہ یتیم بچوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا اور پاکستان میں بھی 15 رمضان کو یتیم بچوں کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔اِس آواز پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان میں ’’پاکستان آرفن کئیر فورم‘‘ نے 15 رمضان کو یوم یتامیٰ منانے کا فیصلہ کیا۔

اس فورم میں قطر چیرٹی ‘ صراط الجنہ ٹرسٹ، خبیب فائونڈیشن،سویٹ ہومز‘ فائونڈیشن آف دی فیتھ فل ‘الخدمت فائونڈیشن ، ہیلپنگ ہینڈفار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ، مسلم ایڈ ، اسلامک ریلیف پاکستان،،ہیومن اپیل، ریڈ فائونڈیشن، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ، تعمیر ملت فائونڈیشن، ایدھی ہومز اورانجمن فیض الاسلام شامل ہیں۔