عام انتخابات منصفانہ اور شفاف ہونے چاہیے ، حلقہ بندیاں مسترد ہونا خطرناک بات ہے‘شہباز شریف

بلوچستان اسمبلی کی طرف سے الیکشن میں تاخیر کی قرار داد پاس ہونا اچھا شگون نہیں ، قوم وقت پر الیکشن چاہتی ہے،نگران وزیر اعلی کا نام واپس لیکر عمران نیازی نے یوٹرن لے لیا اور یہ بھی التوا کا ایک بہانہ ہے ، الیکشن منصفانہ اور شفاف ہوئے تو جمہوریت پنپ سکے گی اور اگر ایسا نہ ہو ا تو پھر خدانخواستہ بڑی تباہی ہو گی،سیاست کرنا عمران نیازی کے بس کی بات نہیں، خان صاحب حجرے میں بیٹھ جائیں اور اللہ اللہ کریں پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ یورپ کے ہسپتالوں سے کسی صورت کم نہیں،ہے یہاں مستحق مریضوں کا علاج اور دوائیاں بالکل مفت ہیں، جگر کی ٹرانسپلانٹ کا کام دو سے تین ماہ میں شروع ہو جائے گا نیب کی وجہ سے جس طرح کا ماحول بن گیاہے لوگ اس سے خوفزدہ ہوگئے ہیں، بددیانتی یا کرپشن پر احتساب ہونا چاہیے وزیراعلیٰ پنجاب کا پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹیٹیوٹ کا دورہ ، کامیاب کڈنی ٹرانسپلانٹ کے دو مریضوںسے ملاقات

جمعرات مئی 20:49

عام انتخابات منصفانہ اور شفاف ہونے چاہیے ، حلقہ بندیاں مسترد ہونا خطرناک ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کیا ۔وہ ان دو مریضوں اور ان کے عزیز و اقارب سے ملے جن کا یہاں گردوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کیاگیاہے ۔وزیراعلیٰ نے مریضوں کے تیمارداروں سے یہاں علاج کی سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا- مریضوں کے عزیز واقارب نے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی جدید طبی سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور وزیر اعلی کا شکریہ ادا کیا-وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب حکومت نے 20ارب روپے کی لاگت سے سٹیٹ آف دی آرٹ پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ بنایا ہے ۔

جس کاپہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے ۔

(جاری ہے)

یہاں نرسنگ سکول،ریسرچ سینٹر بھی بنائے جارہے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ ادارے میں پہلا کڈنی کا ٹرانسپلانٹ پرسوں جبکہ دوسرا کڈنی ٹرانسپلانٹ کا آپریشن آج ہوا ہے ۔میںدونوں مریضوں کے عزیز و اقارب سے ملا ہوںجواپنے مریضوں کے گردوں کے کامیاب ٹرانسپلانٹ پر بے حد خوش ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ ہسپتال یورپ کے ہسپتالوں سے کسی صورت کم نہیں، میں 2003ء میں موذی مرض کینسر کا شکار ہوا اورمیں نے علاج امریکہ کے ہسپتال سے کرایا جس پر 60ہزار ڈالر خرچ ہوئے ۔

خدشہ ہے کہ نیب کہیں یہ نہ پوچھ لے کہ یہ رقم کہا ںسے آئی جبکہ اس ادارے میں دونوں مریضوں کا گردوں کا ٹرانسپلانٹ سو فیصد مفت ہوا ہے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ ایسا شاندار ادارہ ہے کہ غریب آدمی اس میں داخل ہوکر ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کیونکہ پہلے کبھی اسے علاج کیلئے ایسے ہسپتال جانے کا موقع نہیں ملا۔یہ ادارہ اتنا شاندار ہے کہ آغا خان ہسپتال اوردیگر ہسپتال اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔

انہوںنے کہاکہ اس پراجیکٹ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے اورمریضوں کو علاج معالجہ فراہم کررہاہے یہاں 70ڈاکٹرز یورپ اورمشرق وسطیٰ سے آئے ہیں اوروہ اپنے شعبے کو ماہرین ہیں۔یہی وہ ویژن ہے جس کی بدولت پاکستان معرض وجود میں آیا یہ ہسپتال یقینا قائد ؒو اقبالؒکی قیادت و سوچ کا فیضان ہے۔یہاں مستحق مریضوں کا علاج اور دوائیاں بالکل مفت ہیں ۔

انہوںنے کہا کہ جگر کی ٹرانسپلانٹیشن کے آغازمیں کئی وجوہات کی بنا پر تاخیر ہوئی ہے ۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ منصوبے پر کام کرنیوالے لوگ خوفزدہ ہیں۔انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مجاہد شیر دل محنتی اورایماندار افسر ہیں لیکن نیب کی وجہ سے جس طرح کا ماحول بن گیاہے وہ بھی خوفزدہ ہوگئے ہیں۔جس نے بددیانتی یا کرپشن کی اس کا احتساب ہونا چاہیے تاہم ایمانداری سے کام کرنیوالوں کی ستائش بھی ہونی چاہیے۔

اگر ایسا نہ ہوا تو پھر خدا نخواستہ بہت نقصان ہو سکتا ہے - انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبے میں میرٹ کو فروغ دیا ہے ، 2لاکھ اساتذہ، پولیس اور تمام اداروں میں بھرتیاں صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر کی گئی ہیں - پی کے ایل آئی کے ڈاکٹر سعید اختر نے ہمارے ساتھ کام کرتے وقت یہ شرط لگائی تھی کہ اس ادارے کیلئے تمام بھرتیاں میرٹ پرہوں گی جبکہ پنجاب حکومت تو پہلے ہی میرٹ پالیسی پر عمل پیرا ہے - اس لئے ہماری سوچ میں یکسانیت تھی- انہوں نے کہا کہ یہ ہسپتال پنجاب کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے اسی لئے ہم نے اس کا نام پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ رکھا ہے - یہاں تربت ، مالاکنڈ، کراچی ، لاڑکانہ ، نواب شاہ ، کوئٹہ ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتسان جہاں سے بھی مستحق مریض آئے گا اس کا علاج بالکل مفت ہو گاتا ہم صاحب حیثیت لوگ یہاں علاج کیلئے آئیں گے تو انہیں ادائیگی کرنا ہو گی-انہوںنے کہا کہ آئندہ دو سے تین ماہ میں ادارے میں لیورٹرانسپلانٹ کا عمل بھی شروع ہو جائے گا- انہوںنے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں ہم غریب مریضوں کے ہندوستان علاج معالجے پر ڈیرھ ارب روپے خرچ کر چکے ہیں اب اس ہسپتال کے بننے سے یہ باب بند ہو گا اور مودی کی مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی- انہوںنے کہا کہ پی کے ایل آئی جنوبی ایشیا کا شاندار ادارہ بن چکا ہے اور اس ادارے کو بنانے میں دن رات محنت کرنے پر صوبائی وزیر صحت ، صوبائی وزیر خزانہ ، چیف سیکرٹری ، چیئرمین پی اینڈ ڈی اور متعلقہ اداروں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوںنے دنیا اور آخرت میں جنت کمائی ہے - وزیر اعلی نے توانائی منصوبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج پورے پاکستان میں شدید گرمی ہے ، سورج سوا نیزے پر ہے لیکن لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے - ڈیموں میں پانی کی کمی ہے اور پانی سے بننے والی اڑھائی سے تین ہزار میگا واٹ بجلی کی بھی کمی ہے اس کے باوجود لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی - انہوںنے کہا کہ پنجاب حکومت نے توانائی منصوبوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے اگرچہ بجلی فراہم کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے تا ہم پنجاب نے بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا --بجلی پنجاب نے پیدا کی تا ہم یہ بجلی پورے پاکستان کو جا رہی ہے - انہوںنے کہا کہ ہم نے شدید گرمی میں عوام کو مسلسل بجلی فراہم کر کے لوڈ شیڈنگ نہ کر کے اپنا امتحان پاس کر لیا ہے اور آج ہماری حکومت کا آخری دن ہے تا ہم اگر کل لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہو گی -اس کے بارے میں نگرانوں سے پوچھا جائی- انہوںنے کہا کہ عام انتخابات منصفانہ اور شفاف ہونے چاہیئں - اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے حلقہ بندیاں مسترد ہونا خطرناک بات ہے - اسی طرح بلوچستان اسمبلی کی طرف سے الیکشن میں تاخیر کی قرار داد پاس ہونا اچھا شگون نہیں - قوم وقت پر الیکشن چاہتی ہے - انہوںنے کہا کہ دو جمہوری حکومتوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی ہے اور یہ جمہوری نظام کی بہت بڑی کامیابی ہے - آئندہ انتخابات میں عوام جسے بھی منتخب کریں ، یہ ضروری ہے کہ سب مل کر ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کریں - اگر حکومت اور حزب اختلاف ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے مل کر کام کریں اور پی کے ایل آئی جیسے مایہ ناز ادارے بنائیں تو آئندہ پانچ سالوں میں ہندوستان کو کئی شعبوں میں پیچھے چھوڑ سکتے ہیں - وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے پندرہ سالوں کے مقابلے میں قوم کی سوچ بہت سنجیدہ ہو چکی ہے - قوم موازنہ کرے گی کہ کس نے خدمت کی ہے اورکس نے تقاریر، جھوٹ، الزامات اور بہتان تراشی کر کے وقت ضائع کیا ہے - نگران وزیر اعلی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہا کہ خان صاحب گزشتہ پانچ سالوں سے جھوٹ بول رہے اور یوٹرن مار رہے ہیں - اپوزیشن لیڈر نے ان سے پوچھ کر نگران وزیر اعلی کا نام دیا اور پھر عمران نیازی نے یوٹرن لے لیا اور یہ بھی التوا کا ایک بہانہ ہے - ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہا کہ الیکشن منصفانہ اور شفاف ہوئے تو جمہوریت پنپ سکے گی اور اگر ایسا نہ ہو ا تو پھر خدانخواستہ بڑی تباہی ہو گی- ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہا کہ ہمیں ڈائیلاگ کرنا چاہیے - ذاتی پسند اور نہ پسند سے بالا تر ہو کر گلے شکوے ایک طرف رکھ کر پاکستان کے تابناک مستقبل کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کے مابین ڈائیلاگ وقت کی ضرورت ہی-ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ میں ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہوں ، ابھی ہمیں بہت کام کرنا ہے - ہمارا مقابلہ کسی سے نہیں بلکہ خدمت کے ساتھ ہے - قوم اسے ووٹ دے گی جس نے خدمت کی ہے - ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ عمران خان نے بے بنیاد الزامات لگائے ہیں اور وہ آج تک کوئی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کر سکے - عمران نیازی نے اپنے صوبے میں بنائے گئے احتساب کمیشن کے ادارے کو بھی ختم کر دیا گیا ہے - عمران خان کے الزامات میں اگر کوئی سچ ہو تو قوم کا ہاتھ اور میرا گریبان ہو گا ورنہ خان صاحب حجرے میں بیٹھ جائیں اور اللہ اللہ کریں -