خواجہ آصف کی نااہلی کے خلاف درخواست ،ْہم کسی کے مستقبل کو تباہ نہیں کرنا چاہتے ،ْ عمر عطاء بندیال

خواجہ آصف کی تنخواہ کی آمدن سالانہ 20 لاکھ درہم سے زائد بنتی ہے ،ْ کاغذات نامزدگی میں غیر ملکی تنخواہ کو ظاہر نہیں کیا ،ْ وکیل عثمان ڈار تنخواہ کا مطلب اگر محفوظ شدہ رقم ہو اور اگر فریق کہے کہ میں نے تنخواہ خرچ کردی تو پھر کیا ہوگا ،ْجسٹس عمر عطاء بندیال اگر آپ کہتے ہیں کہ 68 لاکھ روپے میں تنخواہ شامل نہیں تو آپ کو ثبوت دینا ہوں گے ،ْجسٹس سجاد علی شاہ کا عثمان ڈار کے وکیل سے مکالمہ ٹیکس تفصیلات ظاہر نہ کرنے پر نااہلی نہیں ہوسکتی، ہمارے پاس مقدمہ آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق ہے ،ْمقدمہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت غلطی نہیں بنتی تو پھر معاملہ اگلا ہوگا ،ْجسٹس سجاد علی شاہ کے ریمارکس

جمعرات مئی 21:16

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) سپریم کورٹ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہم کسی کو نااہل یا اس کے مستقبل کو تباہ نہیں کرنا چاہتے۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے خواجہ آصف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی، سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کے وکیل سکندر بشیر پیش ہوئے۔

دوران سماعت وکیل عثمان ڈار نے کہا کہ خواجہ آصف کی تنخواہ کی آمدن سالانہ 20 لاکھ درہم سے زائد بنتی ہے اور سابق وزیر خارجہ نے کاغذات نامزدگی میں غیر ملکی تنخواہ کو ظاہر نہیں کیا۔

(جاری ہے)

اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا حالیہ تنخواہ کو اثاثہ نہیں کہا جاسکتا، تنخواہ کا مطلب اگر محفوظ شدہ رقم ہو اور اگر فریق کہے کہ میں نے تنخواہ خرچ کردی تو پھر کیا ہوگا جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تنخواہ کاغذات نامزدگی کے فارم میں کہاں دکھانا ضروری ہے، ہمیں کالم دکھائیں اس پر عثمان ڈار کے وکیل کا کہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی میں بیرون ملک کے اثاثے اور ٹیکس ظاہر کرنے کا فارم موجود ہے۔

اس پر بینچ میں شامل جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ کہتے ہیں کہ 68 لاکھ روپے میں تنخواہ شامل نہیں تو آپ کو ثبوت دینا ہوں گے۔۔سماعت کے دوران جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ اگر کوئی شخص اپنی تنخواہ ظاہر کرے تو اس سے خرچ کرنے کا سوال پوچھا جاسکتا ہے اس پر وکیل عثمان ڈار نے کہا کہ یہ دلیل کبھی اپنے دفاع میں پیش نہیں کی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خواجہ آصف نے یہ تفصیلات ظاہر نہیں کیں کہ کتنی تنخواہ تھی اور کتنی خرچ کی جس پر وکیل عثمان ڈار نے کہا کہ سابق وزیر خارجہ کی کاغذات نامزدگی میں ظاہر تفصیلات میں تنخواہ شامل نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں یہ نہیں کہا گیا کہ بیرون ملک سے آئے اثاثے غیر ملکی تنخواہ سے حاصل کیے ہیں بلکہ خواجہ آصف نے صرف بطور رکن قومی اسمبلی اپنی تنخواہ ظاہر کی، اس کے علاوہ 2010 میں 3 کروڑ 40 لاکھ روپے کاروبار سے خواجہ آصف کو وصول ہوئے لیکن اس کی تفصیلات کا ذکر نہیں اور اس رقم سے متعلق ذریعہ آمدن ظاہر نہیں کیا گیا۔عثمان ڈار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 38 لاکھ کے ترسیلات زر 2011 میں وصول ہوئے، جنہیں کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے 6 ہزار روپے سے زائد ایک سال کا ٹیکس نہیں دیا، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم انکم ٹیکس کے معاملے میں نہیں جائیں گے، کیا ہم اسے انکم ٹیکس میں غلطی کہہ سکتے ہیں اس پر عثمان ڈار کے وکیل نے کہا کہ خواجہ آصف نے الیکشن کمیشن سے تفصیلات چھپائیں جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکس تفصیلات ظاہر نہ کرنے پر نااہلی نہیں ہوسکتی، ہمارے پاس مقدمہ آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق ہے، اگر مقدمہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت غلطی نہیں بنتی تو پھر معاملہ اگلا ہوگا۔

سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ ٹیکس نظام میں خامیوں سے متعلق لگتا ہے، ہمارے قانون میں جان بوجھ کر گنجائش چھوڑی گئی ہے، قانون میں گنجائش امرا کیلئے باہر سے رقم وصول کرنے کے لیے ہے۔اس پر وکیل عثمان ڈار نے کہا کہ منصوبے کے تحت احتیاطی تدابیر کے طور پر خواجہ آصف کی تفصیلات چھپائی گئیں، جس پر جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ ہزاروں کی تعداد میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ہیں، ٹیکس تفصیلات درست ظاہر کی گئیں یا نہیں اس کا جائزہ ریٹرنگ آفیسر لیتا ہے۔

عدالت میں سماعت کے موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ایک مقدمہ تھا جس میں تنخواہ ظاہر نہیں کی گئی تھی، اس مقدمے میں تنخواہ ظاہر کی گئی ہے، آپ کے الزامات خواجہ آصف کی نظر میں غیر تسلیم شدہ حقیقت ہے، آپ ہم سے نااہلی مانگ رہے ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم کسی کو نااہل یا اس کے مستقبل کو تباہ نہیں کرنا چاہتے، بظاہر خواجہ آصف نے تنخواہ ظاہر کی ہے، آمدن ظاہر کرنے پر کسی کو نااہل نہیں کر سکتے، معلوم نہیں ساتھی ججز اس بات سے متفق ہیں یا نہیں۔

اس پر وکیل عثمان ڈار نے کہا کہ2014 میں خواجہ آصف نے آمدن اور انکم ٹیکس کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ جب آپ اثاثے ظاہر کرتے ہیں تو آپ کو ذریعہ بھی ظاہر کرنا پڑتا ہے جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ وہ مقدمہ ہے جس میں ذرائع ظاہر کردیے گئے مگر اثاثے ظاہر نہیں کیے گئے، یہ زیادہ سنجیدہ معاملہ ہے۔

سماعت کے دوران عثمان ڈار کے وکیل نے اپنے دفاع میں پاناما پیپرز کیس کا حوالہ دیا، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ تاحیات نااہلی کے لیے ٹھوس وجہ ہونی چاہیے، ہم مقدمے کو مکمل احتیاط سے دیکھ رہے ہیں، پاناما کیس عوامی عہدہ رکھنے سے متعلق تھا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں وکیل سکندر کی کچھ باتیں واضح نہیں لگیں، اب مقدمہ سالانہ ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات جمع کروانے سے متعلق عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 42 کی طرف منتقل ہورہا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ کیا عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 42 کی خلاف ورزی پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ہوسکتا ہے کیونکہ خواجہ آصف کے وکیل کا کہنا ہے یہ مقدمہ تاحیات نااہلی کا نہیں بنتا۔اس پر وکیل عثمان ڈار نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن میں سالانہ گوشوارے جمع کرنے کی شق کی خلاف ورزی ہو تو نااہلی بنتی ہے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سوال یہ ہے کہ نااہلی 62 ون ایف کے تحت ہوگی یا پھر عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 99 کے تحت ہوگی۔بعد ازاں عدالت خواجہ آصف نااہلی کیس سے متعلق سماعت (آج) یکم جون تک ملتوی کردی۔خیال رہے کہ 26 اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا تھا۔