بھارت ،ْمتعصب ہندوؤں نے تشدد کے بعد ’نچلی ذات‘ کے نوجوان کی مونچھیں منڈوادیں

تیرہ کے خلاف ایف آئی آر درج ،ْ پولیس نے شکایت پر دو افراد کو گرفتار کرلیا ،ْ باقی کی تلاش شروع کر دی گئی

جمعرات مئی 21:25

پالن پور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) بھارت کی ریاست گجرات میں پالن پور نامی علاقے میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے ’نچلی ذات‘ سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ لڑکے کو تشدد کا نشانہ بنا کر اس کی مونچھیں صاف کرادی۔۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے بتایا گیا کہ رنجیت ٹھاکر 4 جون کو منعقد ہونے والی مذہبی تقریب کے کارڈ تقسیم کرنے گیا جہاں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے دعوت نامے پر اس کے نام کے ساتھ ‘سِنہ’ کا لاحقہ لکھنے پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔

(جاری ہے)

پولیس نے رنجیت ٹھاکر کی شکایت پر 2 افراد کو گرفتار کرلیا ،ْ دیگر کی تلاش شروع کر دی گئی پولیس کے مطابق رنجیت ٹھاکر 27 مئی کو اپنی مذہبی تقریب بابری (سرمنڈوانے کی رسم) کے سلسلے میں پالن پور پہنچا جہاں 15 راجپوت ہندوؤں نے دعوت نامے پر رنجیت ٹھاکر کے نام سے ساتھ ‘سِنہ’ تحریر دیکھا تو طیش میں آگئے اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ملزمان رنجیت ٹھاکر کو کچے کے علاقے میں لے گئے جہاں انہوں نے نہ صرف اسے تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس کی مونچھیں صاف کرنے پر مجبور کیا۔واقعہ کے حوالے سے پولیس افسر نے بتایا کہ رنجیت ٹھاکر کی جانب سے 13 افراد کے خلاف شکایت درج کرائی گئی جبکہ 2 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

متعلقہ عنوان :