خواتین، بچوں، معذور افراد، اقلیتوں سمیت دیگر طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے حکومت نے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران 10 نئے قوانین کی منظوری دی ، قومی ٹاسک فورس برائے انسانی حقوق کا قیام عمل میں لایا گیا ، انسانی حقوق سے متعلق شہریوں میں آگاہی اور شعور اجاگر کرنے کیلئے آگاہی مہم بھی شروع کی گئی، وفاقی اور صوبائی سطح پر بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق انسانی حقوق کے نفاذ کیلئے ٹریٹی امپلیمنٹیشن سیلز بھی قائم کئے گئے

وفاقی وزیر انسانی حقوق ممتاز تارڑ کی پریس بریفنگ

جمعرات مئی 21:48

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) حکومت ، آئین اور بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق شہریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے، خواتین، بچوں، معذور افراد، اقلیتوں سمیت دیگر طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے حکومت نے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران 10 نئے قوانین کی منظوری دی ہے، انسانی حقوق کے نفاذ کے جائزہ کیلئے قومی ٹاسک فورس برائے انسانی حقوق کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، انسانی حقوق سے متعلق شہریوں میں آگاہی اور شعور اجاگر کرنے کیلئے آگاہی مہم بھی شروع کی گئی، وفاقی اور صوبائی سطح پر بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق انسانی حقوق کے نفاذ کیلئے ٹریٹی امپلیمنٹیشن سیلز بھی قائم کئے گئے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر انسانی حقوق ممتاز تارڑ نے پریس بریفنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت کی بڑی کامیابی ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران زنا بالجبر، غیرت کے نام پر قتل،، تحفظ اطفال، ہندو میرج ایکٹ، خواجہ سرا سے متعلق قوانین، مصیب زدہ قیدی خواتین سے متعلق قانون سازی، قانون سازی سمیت قیدی بچوں سے متعلق بھی نئے قوانین بنائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے قومی لائحہ عمل برائے انسانی 2016ء میں قائم کیا جسے نافذ کیا جا رہا ہے، یہ لائحہ عمل پالیسی اور قانونی اصلاحات کیلئے اقدامات تجویز کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی پالیسی فریم ورک کی تشکیل کیلئے وفاقی اور صوبائی سطح پر مشاورتی مرحلہ کے بعد مسودہ تیار کیا گیا ہے تاکہ پالیسی کے ذریعے انسانی حقوق کی ترقی اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، وزارت نے پالیسیاں تشکیل دینے میں بھی صوبوں کی مدد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے حال ہی میں اپنی صوبائی انسانی حقوق پالیسیاں منظور کی ہیں، باقی دو صوبوں میں یہ پالیسیاں زیر غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی اہم کامیابی ہے کہ انسانی حقوق ایکٹ 2012ء میں نافذ کیا گیا لیکن کمیشن کا قیام التواء کا شکار تھا، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے نہ صرف کمیشن تشکیل دیا بلکہ اس کیلئے سو ملین روپے سالانہ بھی منظور کئے، یہ کمیشن وسیع تر ذمہ داریوں اور ازخود نوٹس جیسے اختیارات کے ساتھ قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ٹاسک فورس برائے انسانی حقوق کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے سربراہ وفاقی وزیر ہوتے ہیں جس میں متعلقہ صوبائی حقوق کے محکمے اور وزارتیں شامل ہوتی ہیں جو انسانی حقوق کے نفاذ کا جائزہ لیتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق شکایات کیلئے ہیلپ لائن 1099 قائم کی گئی ہے، اس حوالہ سے گذشتہ پانچ سالوں میں اس ہیلپ لائن کے ذریعے ایک لاکھ 23 ہزار سے کالز موصول ہوئی ہیں۔

پاکستان نے انسانی حقوق سے متعلق سات اہم معاہدوں کی توثیق کر رکھی ہیں جنہیں وفاقی اور صوبائی سطحوں پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ قومی اور صوبائی سطح پر ٹریٹی امیپلیمنٹیشن سیلز قائم کئے گئے ہیں تاکہ نفاذ کا عمل فعال بنایا جا سکے۔ معاہدوں کے نفاذ پر رپورٹیں تیار کی گئی ہیں اور یو این کے متعلقہ فورمز پر ان کا کامیابی سے دفاع کیا گیا ہے، پاکستان 17 اکتوبر 2016ء کو اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق سے متعلق آپشنل پروٹوکول کی توثیق بھی کر چکا ہے جو بچوں کے مسلح تنازعات میں شامل ہونے سے متعلق ہے۔

اس کی ابتدائی رپورٹ جلد ہی جمع کرا دی جائے گی۔ وزارت انسانی حقوق نے پہلی بین الاقوامی انسانی حقوق کانفرنس 19، 21 فروری 2018ء کو اسلام آباد میں منعقد کی۔ کانفرنس میں 20 ممالک کے 350 سے زائد وفود نے شرکت کی۔ کانفرنس نے کئی تجاویز پیش کیں جنہیں مستقبل میں انسانی حقوق کی ترقی کیلئے ترجیحات میں شامل کیا جا رہا ہے۔