بھارت، 10لاکھ بنک ملازمین ہڑتال پر،بنکنگ خدمات ٹھپ،کاروبار مفلوج

جمعرات مئی 22:55

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) بھارت میں بنک ملازمین کی ہڑتال کے سبب بینکنگ خدمات ٹھپ ہو کر رہ گئیں، 10لاکھ بنک ملازمین گذشتہ 2دن سے ہڑتال پر ہیں۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میںبینک ملازمین کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کے سلسلے میں جاری ہڑتا ل کے باعث ملک بھر میں بینک خدمات بری طرح متاثر ہوئیں۔یونائٹیڈ فورم آف بینکنگ یونین ( یو ایف بی یو) کے اعلان پر تقریبا 10لاکھ بینک ملازمین تنخواہوں میں صرف 2فیصد اضافے کے فیصلہ کیخلاف 2دن سے ہڑتال پر ہیں۔

یو ایف بی یو میں بینک سیکٹر کی تمام 9تنظیمیں ہڑتال میں شامل ہیں۔ جمعہ کو بینکنگ خدمات معمول کے مطابق بحال ہونے کی امید ہے۔ یو ایف بی یو نے دعوی کیا کہ ہڑتال مکمل طور پر کامیاب رہی۔ ممبئی ، دہلی،، کولکتہ ، چنئی، بنگلور ، حیدرآباد، احمد آباد، جے پور ، پٹنہ ، ناگپور، جموں ، گوہاٹی ، جمشید پور ، لکھنو، آگرہ ، انبالہ اور تریوندراپورم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق بینکوں اور ان شاخوں کے ملازمین نے کھل کر ہڑتال میں حصہ لیا۔

(جاری ہے)

ملک کے مختلف علاقوں میں 21بینکوں کی تقریبا85ہزارشاخیں ہیں جہاں 70فیصد تجارتی حصہ داری ہے۔ بینک ملازمین کے مطابق اس ماہ کے آخر میں ہڑتال ہونے سے بینکوں اوراس کی شاخوں سے لوگوں کو تنخواہیں نکالنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔مختلف مقامات پر نصب اے ٹی ایم میں نقدی نہ ہونے سے مارکیٹ میں روزمرہ کے لین دین اور تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔

متعلقہ عنوان :