پی اسے سی نے غیر قانونی سگریٹس کی فروخت اور ٹوبیکو انڈسٹری پرتھرڈ ٹائیرٹیکس سے قومی خزانے کو اربوں روپے نقصان کے معاملے پر خصوصی کمیٹی کے قیام کیلئے خط لکھ دیا

مجوزہ کمیٹی میںغیرقانونی سیگریٹس کی فروخت اور ٹوبیکو انڈسٹری پر تھرڈ ٹائیر ٹیکس سے قومی خزانے کو ہونے والے کروڑوں روپے کے نقصان کے معاملہ کا جائزہ لیا جائے ، خصوصی کمیٹی میں پی اے سی کے سینیٹرممبرز کو بھی شامل کیا جائے ، خط کا متن

جمعرات مئی 23:02

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے غیر قانونی سگریٹس کی فروخت اور ٹوبیکو انڈسٹری پرتھرڈ ٹائیرٹیکس سے قومی خزانے کو ہونے والے اربوں روپے نقصان کے معاملے پر خصوصی کمیٹی بنانے کے لیے چیئرمین سینٹ کو خط ارسا ل کردیا ہے ،خط 23 مئی کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کے ہونے والے اجلاس میں کی گئی ہدایات پر لکھا گیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ 2ماہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس نہ ہونے کی صورت میں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سینٹ کی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میںغیرقانونی سیگریٹس کی فروخت اور ٹوبیکو انڈسٹری پر تھرڈ ٹائیر ٹیکس سے قومی خزانے کو ہونے والیکروڑوں روپے کے نقصان کے معاملہ کا جائزہ لیا جائے ،خط میںکہا گیا ہے کہ سینٹ کے اس خصوصی کمیٹی میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کے ممبرز سینٹرز کو بھی شامل کیا جائے تاکہ وہ بھی اس معاملے کا جائزہ لے کر اپنی سفارشا ت دے سکیں، اس حوالے سے ترجمان پی ٹی سی کی جانب سے پبلک اکائونٹس کمیٹی کو لکھے گئے خط میں وضاحت کی ہے کہ 23مئی کو ہونے والے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں ٹوبیکو انڈسٹری کے لیے تھرڈ سلیب متعارف کرانے سے ہونے والے نقصانات کی باتیں اور خبریںحقائق کے مطابق نہ ہیں، ٹیکس ریونیو میں کمی کی وجہ غیرقانونی سگریٹس کی فروخت ہے جس سے قومی خزانے کو 60 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے ۔

(جاری ہے)

خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے 2017 کے وفاقی بجٹ میں سگریٹوں پر ٹیکس کے حوالے سے تیسرا ٹیئر متعارف کروایا تھا۔ جسے پارلیمنٹ نے منظور کر کے قانون بنایا۔ تیسرا ٹیئر متعارف کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کی ٹیکس ادا کرنے والے اور ٹیکس ادا نہ کرنے والے سگریٹوں کی قیمتوں میں بہت زیادہ فرق تھا۔ حکومت کو ٹیکس کی مد میں ریونیو نہیں مل رہا تھا، ریونیو میں اضافے کے لیے تھرڈ سلیب متعارف کرایا گیا۔

اسی وجہ سے قومی خزانے کو 2017-18 میں سگریٹ انڈسٹری سے ٹیکس کی مد میں 23 فیصد کے اضافہ سے 30 ارب سے تجاوز کر کے 37 ارب روپے تک ریونیو حاصل سے خط میںکہاگیا ہے کہ ٹیکس ریونیو میں کمی کی وجہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سرکاری ڈاکومنٹس کے مطابق آذاد کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں ٹیکس چوری والے سگریٹ تیار ہو رہے ہیں اور پاکستان میں فروخت ہو رہے ہیں۔

اس وجہ سے حکومت کو اربوں روپے کا ٹیکس چوری کی مد میں نقصان ہو رہا ہے۔ آزاد کشمیر حکومت کو بھی چاہیے کہ ان سگریٹوں کو تیار کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کاروائی کرے ،اور آذاد کشمیر سے پاکستان میں ان غیر قانونی سگریٹوں کی پاکستان میں داخلے کو روکنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ حکومت کو چایئے کی وہ بڑھتی ہوئی غیر قانونی سگریٹ تجارت کو چیک کرے اور اس کے خاتمے کہ لیے اقدامات کرے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس غیر قانونی مافیا کے خلاف بلا تفریق ، موئثراور متواتر کاروائی کرے اور قانون پر عمل درآمد کروائے۔ پی اسے سی سیکرٹریٹ نیآگاہ کیا ہے کہ اس حوالے سیاموراگلے ایجنڈا میںزیر غور لائے جائیں گے ۔