(ن) لیگ کی حکومت کے 5سالہ دور میں انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کئے گئے کاموں کی ملکی 70سالہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی ، ہماری وزارت نے آئین اور بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے دن رات کام کیا،زنا بالجبر، غیرت کے نام پر قتل، قومی کمیشن برائے حقوق اطفال، ہندو میرج ایکٹ، حقوق خواجہ سرا کا تحفظ، ریپ کیسز میں ڈی این اے کی قانونی حیثیت کا قانون،18سال سے کم عمر بچوں کے تحفظ کیلئے اہم قوانین بنائے گئے ،قومی کمیشن برائے انسانی حقوق تشکیل ،انسانی حقوق کی حفاظت کیلئے عوامی ہیلپ لائن "1099" قائم کی ،اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے علمبرداراداروںنے وزارت انسانی حقوق کی 5سال کی کاوشوں کو بھی سراہا ہے

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ممتاز تارڑ کی پریس کانفرنس

جمعرات مئی 23:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ممتاز تارڑ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے 5سال میں انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے جتنے کام کیے ہیں اتنے پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں نہیں کیے ، اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے علمبردارتمام عالمی ادارے بھی اس کے معترف ہیں، آئین اور بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے دن رات کام کیا،زنا بالجبر، غیرت کے نام پر قتل،، قومی کمیشن برائے حقوق اطفال، ہندو میرج ایکٹ، حقوق خواجہ سرا کا تحفظ، ریپ کیسز میں ڈی این اے کی قانونی حیثیت کا قانون،18سال سے کم عمر بچوں کے تحفظ کیلئے اہم قوانین بنائے گئے ہیں،ہم نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق تشکیل دیا اور اس کیلئے سالانہ تقریبا100ملین روپے مختص کیے، انسانی حقوق کی حفاظت کیلئے عوامی ہیلپ لائن بھی "1099" کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جس کا کام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کو مفت قانونی امداد فراہم کرنا ہے،،اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے علمبرداراداروںنے وزارت انسانی حقوق کی 5سال کی کاوشوں کو بھی سراہا ہے ۔

(جاری ہے)

وہ بدھ کو یہاں پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنی5سالہ آئینی مدت پوری کر لی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ ان 5سالوں میں انسانی حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح رہی۔ حکومت نے آئین اور بین الاقوامی معائدوں کے مطابق پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے دن رات کام کیا۔ اس ضمن میں حکومت کے 10قوانین نہایت اہم ہیں جن کے ذریعے جرائم کی روک تھام میں خاطر خواہ مدد ملی ہے۔

ان میں زنی بالجبر، غیرت کے نام پر قتل،، قومی کمیشن برائے حقوق اطفال، ہندو میرج ایکٹ، حقوق خواجہ سرا کا تحفظ، ریپ کیسز میں ڈی این اے کی قانونی حیثیت کا قانون،18سال سے کم عمر بچوں کیلئے قانون شامل ہیں ۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ2012میں نافذ کیا گیا لیکن اس کمیشن کا قیام التوا کا شکار ریا۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے اقتدار میں آکر یہ کمیشن تشکیل دیا اور اس کیلئے سالانہ تقریبا100ملین روپے مختص کیے۔

اس کے علاوہ قومی ٹاسک فورس کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جو پارلیمنٹرینز، متعلقہ وزارتوں اور صوبائی انسانی حقوق کے محکموں پر مشتمل ہے جس کا مقصد قومی لائحہ عمل برائے انسانی حقوق کے نفاذ کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس کے علاوہ حکومت نے انسانی حقوق کی حفاظت کیلئے عوامی ہیلپ لائن بھی "1099" کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جس کا کام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کو مفت قانونی امداد فراہم کرنا ہے۔

فروری2015سے مئی2018تک اس ہیلپ لائن پر123,823کالز موصول ہوئیں جن میں سے 11,118کیسز کو تلافی کے بعد متعلقہ اداروں کو بھیج دیا گیا ہے۔ پاکستان میں جبری کمشدگیوں کا معاملہ بھی سنگین ہے جس پر کمیشن بھی بنایا گیا جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں۔ اس کمیشن نے کمشدہ افراد کے معاملے کو تمام فورمز پر اٹھایا جس کے نتیجے میں کئی گمشدہ افراد گھروں کو واپس لوٹ آئے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) نے اپنی5سالہ دور حکومت میں انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے جتنے کام کیے ہیں اتنے پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں نہیں کیے گئے جس کے معترف اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے علمبردارتمام عالمی ادارے بھی ہیں اور انہوں نے وزارت انسانی حقوق کی 5سال کی کاوشوں کو بھی سراہا ہی

متعلقہ عنوان :