بلوچستان اسمبلی ، خواتین اراکین کا احتجاج،وزیراعلی اور اسپیکر کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کردیا

بلوچستان پسماندہ صوبہ ہے، قدرتی مسائل سے مالا مال ہے ، گھریلو مزدوروں پر قانون بنا کر ان کے تحفظ کو یقینی بنا یا جائے،زمرک اچکزئی وفاقی حکومت ملازمتوں اور فنڈز سمیت ہر شعبے میں بلوچستان کیلئے چھ فیصد کوٹہ پر عمل کر تی ہے، ایک لاکھ اسی ہزار کے کوٹہ میں ہمار ا حصہ ساڑھے سات ہزار بنتا ہے، صرف چھ ہزار درخواستیں صوبے سے جمع ہوئی ،صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل

جمعرات مئی 23:27

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پینل آف چیئرمین یا سمین لہڑی کی صدارت میں ہوا اجلاس میںخواتین اراکین اسمبلی نے کم عمر خواتین کی شادیوں سے متعلق بل پاس نہ ہونے پر شدید احتجاج کیا اور خواتین اراکین نے اسپیکر کی چیئر کے سامنے کھڑے ہو کر احتجاج کیا احتجاج کی وجہ سے اسمبلی کی کارروائی تقریبا20 منٹ روکی رہی احتجاج کرنے والے خواتین اراکین میں ڈاکٹر شمع اسحاق، عارفہ صدیق اور سپوژمئی بی بی شامل تھی اسپیکر کی ہدایت وزیر داخلہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے رابطہ کیا وزیراعلیٰ اور اسپیکر کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کیا اپوزیشن رکن ڈاکٹر شمع اسحاق نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کر تے ہوئے کہا ہے کہ کم عمر خواتین کی شادیوں سے متعلق بل ایوان میں لائے تھے اور حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ بل کی حمایت کر کے منظور کرائیں گے ایوان میں بل ٹیبل بھی ہوا لیکن آخری اجلاس میں بھی پیش نہ کیا گیا بل جب تک ایوان میں نہیں لائیگی اس وقت تک خواتین اراکین اسمبلی ایوان میں کھڑے ہو کر احتجاج کر تے رہیں گے صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ اہم بل ہے ہم نے حکومت ہوتے ہوئے بھی متعلقہ بل کی حمایت کی تا ہم میں متعلقہ وزیر نہیں وزیراعلیٰ سے بات کر کے پھر بل سے متعلق بتائونگا اور میں نے ذاتی طور پر دلچسپی لی کیونکہ کم عمر شادی کی وجہ سے یہاں بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں بل پا س ہونے کے بعد یہاں کے معاشرے پر اچھے اثرات مرتب کرینگے اپوزیشن رکن سید لیاقت آغا نے کہا ہے کہ پہلے اسمبلی کا اجلاس تین بجے بلایا تھا جب ہم یہاں پہنچے تو اسمبلی اجلاس پانچ بجے کیا کونسے رول میں ہے کہ اسمبلی کے اجلاس کو بیک وقت تبدیل کیا جاتا ہے صوبائی وزیر سید آغا رضا نے کہا ہے کہ ہم نے بھی بل کی حمایت کی خواتین بیٹھ کر مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور اب خواتین بیٹھ کر اس مسئلے کو وزیراعلیٰ کے آنے تک حل کیا جائیگا اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے حسن بانو نے کہا ہے کہ ساڑھے چارسال تک حکومت میں رہ کر خاموش رہنے والوں نے ایک ماہ سے اسمبلی میں ایک طوفان بر پا کر رکھا ہے احتجاج کا بھی کوئی طریقہ ہو تا ہے انہیں آئندہ انتخابات نظر آرہے ہیں اس لئے وہ غیر جمہوری طریقے اختیار کر رہے ہیں صوبائی وزیر میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ٹی وی چینلز پر یہ خبر چل رہی ہے کہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی گزشتہ روز ایوان میں بعض ارکان کے رویئے کی وجہ سے احتجاج کے طور پر آج کے اجلاس کی صدارت کے لئے نہیں آئی ہے انہوں نے چیئر پرسن سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اسپیکر سے رابطہ کرے کہ وہ بعض ارکان کے نا زیبا رویئے کی وجہ سے آج نہیں آئی ہے اس موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصر اللہ زیرے، لیاقت آغا اور صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کے درمیان ایک بار پھر شدید تلخ کلامی ارکان نے ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کئے تلخ جملوں کاتبادلہ ہو تا رہا اراکان کے بیک وقت بولنے سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دی چیئر پرسن یاسمین لہڑی نے پشتونخوامیپ کے ارکان کے مائیک بند کرا دیئے تا ہم وہ مسلسل بو لتے رہے صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے چیئر پرسن سے کہا کہ اسپیکر کا موقف لیا جائے اس پر ایک مرتبہ پر پشتونخوامیپ کے متعد ارکان نے کھڑے ہو کر بولنا شروع کر دیا چیئرپرسن نے ان سے کہا کہ آپ احتجاج ضرور کرے مگر جمہوریت کا حسن برداشت ہے ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی بجائے اپنا موقف پیش کرے چیئر پرسن نے احتجاج کرنیوالی خواتین ارکان سے درخواست کی کہ وہ احتجاج ختم کر کے اپنی نشستوںپر بیٹھ جائے وزارت وزیراعلیٰ کے پاس ہے ان کے آنے تک احتجاج نہ کرے تا ہم خواتین ارکان نے اپنا احتجاج جاری رکھا میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں کا بل اس پہلے بھی ایوان میں پیش ہو تا رہا ہے اور میں نے ہمیشہ اس کی حمایت کی لیکن وزارت میرے پاس نہیں وزیراعلیٰ کے پاس ہے ان سے بات کرینگے ان کی آمد تک خواتین اپنی نشستوں پر بیٹھ جائے صوبائی وزیر قانون سید آغا رضا نے بھی خواتین ارکان سے استدعا کی کہ وہ وزیراعلیٰ کی آمد تک اپنا احتجاج ختم کرے چیئر پرسن نے کہا کہ خواتین ارکان اپنا احتجاج ریکارڈ کرا چکی ہے اور اس بل کا کوئی مخالف بھی نہیں لہٰذا احتجاج ختم کر دے سید لیاقت آغا نے کہا ہے کہ گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکرنے مولانا عبدالواسع کی جانب سے بل پیش کئے جانے کے موقف پر ایوان سے اجازت لی تھی کہ آیا بھی پیش کی جائے آج بھی اسی انداز میں ایوان سے اجازت لی جائے چیئر پرسن نے کہا کہ گزشہ روز پرائیویٹ بل تھا لیکن آج یہ بل وزارت کی جانب سے آنا ہے جس کا قلمدان وزیراعلیٰ کے پاس ہے خواتین ارکان نے کہا ہے کہ جب تک خواتین اور بچوں کا بل ایوان میں نہیں لایا جاتا اس وقت تک ہم ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دینگے صوبائی وزیر عاصم کر د گیلو نے کہا ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ کوئی کا رروائی نہیں چلنے دیا جائے گا ارکان احتجاج کرے لیکن اس کی بھی جمہوری طریقہ کار اختیار کرے اجلاس میں صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے مشترکہ قرارداد ایوان میں پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے بارے میں ہر معاملے میں خواہ فنڈز ہو یا ملازمتیں یہ دوسرے معاملات ہو 1998 کی مردم شماری کے مطابق 6 فیصد کوٹہ پر سختی سے عمل کر تی ہے لیکن عازمین حج کے معاملے میں بلوچستان کی مختصر درخواست دہندگان کی قرعہ اندازی کراچی اور پنجاب کی بڑی آبادی کے مقابلے میں کی جاتی ہے جو سراسر نا انصافی ہے ہر سال تقریبا ایک لاکھ80 ہزار عازمین حج کو پاکستان سے حج پر بھیجا جاتا ہے گزشتہ سال پرائیویٹ ٹورز آپریٹرز کا کوٹہ تیس فیصد تھا یہ کوٹہ نکال کر چھ فیصد کی حساب سے بلوچستان کا حصہ ساڑھے سات ہزار بنتا تھا جبکہ مجموعی طور پر تقریبا6 ہزار عازمین حج نے درخواستیں دی تھی جن میں سے ایک اخباری اطلاع کے مطابق صرف تین ہزار عازمین حج کے نام قرعہ اندازی میں نکلے حالانکہ تمام درخواست دہندگان بغیر قرعہ اندازی کے حج کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں جہاں تک پرائیویٹ حج ٹورز آپریٹرز کا تعلق ہے تو یہ کاروبار بن چکا ہے لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کر تا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ آئندہ سال سے بلوچستان کے عازمین حج کو کوئٹہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق دینے کو یقینی بنایا جائے قرارداد پر اظہار خیال کر تے ہوئے صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ملازمتوں اور فنڈز سمیت ہر شعبے میں بلوچستان کے لئے چھ فیصد کوٹہ پر عمل کر تی ہے ایک لاکھ اسی ہزار کے کوٹہ میں ہمار ا حصہ ساڑھے سات ہزار بنتا ہے جبکہ صرف چھ ہزار درخواستیں صوبے سے جمع ہوئی لہٰذا ان تمام کو حج کی سعادت کے لئے بھیجا جائے سید لیاقت آغا نے کہا ہے کہ ہر سال حج کے قرعہ اندازی کے موقع پر ہم مطالبہ کر تے ہیں کہ بلوچستان کے کوٹے پر عمل کیا جائے مگر بد قسمتی سے ایسانہیں ہو رہا حالانکہ سعودی عرب نے پاکستان کا کوٹہ 15 فیصد بڑھا دیا ہے لہٰذا بلوچستان کے کوٹے پر عمل کیا جائے جمعیت کی حسن بانو رخشانی نے کہا ہے کہ ہمارا کوٹہ کم ہے جس سے ملک کی آبادی کے ساتھ قرعہ اندازی کی وجہ سے ہمارے عازمین حج حج سے محروم رہ جا تے ہیں لہٰذا بلوچستان کے تمام حجاج کرام پر حج پر بھیجا جائے صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے کہا ہے کہ بلوچستان سے ہر سال لو گ حج کے لئے درخواستیں جمع کر دیتے ہیں مگر بد قسمتی سے قرعہ اندازی کے نام پر بلوچستان کے عوام کیساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے بعد میں ایوان نے قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لی گئی عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے ایوان میں مشترکہ قرارداد پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ محنت میں عظمت ہے بنیادی روح کو برقراررکھنے کیلئے مزدوروں، محنت کشوں کے حقوق کا ہر سطح پر تحفظ انتہائی نا گزیر ہے اس وقت پاکستان میں8.52 ملین گھر یلو مزدور ہیں جس میں65 فیصد خواتین اور4 مرد ہیں ملک کی معاشی پیداوار میں ان ورکرز کا نمایاں حصہ ہے اس کے علاوہ ملک میں پیس ریٹ کی بنیاد پر مجموعی طور پر کام کرنے والے خواتین کی اکثریت گھریلو مزدوری پر مشتمل ہے جو کہ مصنوعات کی تیاری کڑھائی، قالین سازی ، دستکاری ، چوڑیاں وغیرہ اور دیگر ایسے ہی کام کر تی ہیں لہٰذاصوبائی حکومت سفارش کر تا ہے کیونکہ گھریلو مزدورں کا تعلق غریب اور کم آمدن والے گھرانوں سے اور وہ روزانہ دس بارہ گھنٹے کام کے بدلے ان کے آمدنی انتہائی قلیل ہے جو ان کی محنت کے صلے میں انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے لہٰذا ایسے سارے محنت کشوں کو لیبرلاز کے زمرے میں لاتے ہوئے انہیں لیبر لاز کا تحفظ دینی کو یقینی بنا ئے تاکہ گھر یلو صنعتوں میں کام کرنے والی خواتین کے سماجی مر تبے کو بلند کر نے اور انکی معاشی حالت بہتر بنانے کیلئے انہیں مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صوبے کیلئے جامع لیبر پالیسی وضع کی جائے قرارداد پر بحث کر تے ہوئے زمرک خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان پسماندہ صوبہ ہے قدرتی مسائل سے مالا مال ہے اور ان گھریلو مزدوروں پر قانون بنا کر ان کے تحفظ کو یقینی بنا ئے جائے اپوزیشن رکن حسن بانوں نے کہا ہے کہ جو اراکین ایوان کو مچھلی بازار بنا کر ہنگامہ آرائی کر تے ہیں ان کو باہر نکالا جائے اور با چا خان چوک پر احتجاج کیا جائے انہوںنے کہا ہے کہ گھر یلو مزدوری کرنے والے خواتین اور بچوں کو تحفظ یقینی بنا ئے بعد میں قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کر تے ہوئے میر سرفراز بگٹی کہا ہے کہ ہماری اسمبلی نے پانچ سال اچھے طریقے سے گزارے اگر چہ پچھلے کچھ دنوں میں نا خوشگوار پیش آئے انہوں نے کہا ہے کہ2013 اور آج کے بلوچستان میں فرق ہے بلوچستان میں مختلف اقسام کی دہشت گردی کا سامنا ہے ہماری غیور سیکورٹی فورسز اور بلوچستان کے عوام نے جس طر ح دہشت گردوں کو چیلنج کیا ہے اور انہیں شکست دی آج بحیثیت وزیر داخلہ مجھے یہ کہنے میں فخر محسوس ہو تا ہے کہ آج کے بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال میں انتہائی بہتر ہے انہوںنے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہم ایک اہم جنگ لڑ رہے ہیں جس طرح اراکین اسمبلی نے اس جنگ میں ہمارا ساتھ دیا ہے وہ قابل فخر ہے بلوچستان کا امن شہداء کے خون کی بدولت ہے جنہوںنے اپنا آج ہمارے کل کے لئے قربان کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہے وہ قابل فخر ہے اس جنگ میں عوام نے سیکورٹی فورسز اور حکومت کا بھر پور ساتھ دیا بلوچستان میں جنتی بھی دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے ہم نے ان میںملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا اور جہنم واصل کیا انہوں نے کہا ہے کہ میں لیویز ، پولیس ، ایف سی کا شکر گزار ہوں کہ جنہوںنے قیام امن کے لئے حکومت کا بھر وپر ساتھ دیا اور اگر مجھ سے کوئی غلطی یا کوتا ہی ہوئی ہے تو میں اس کے لئے بھی معذارت خواہ ہوں مجھے فخر ہے کہ ہم نئے آنیوالے کے لئے ایک اسٹینڈرڈ سیٹ کر کے جا رہے ہیں تاکہ وہ بھی آنیوالے وقت میںمزید بہتری لا سکے انہوںنے تمام اراکین اسمبلی کو الیکشن میں حصہ لینے سے قبل نیک خواہشات کا اظہار کیا وزیر داخلہ نے ایوان میں تحریک پیش کی کہ کا بینہ کے گزشتہ اجلاس میں اراکین اسمبلی کے لئے مراعات منظور کی گئی ہے لہٰذا نہیں غیر سرکاری دن میں ایوان کی کا رروائی میں شامل کیا جائے جس کی ایوان نے منظوری دیدی وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے اجلاس میں اظہار خیال کر تے ہوئے کہا ہے کہ کم عمری کی شادی کا بل اہمیت کا حامل ہے لیکن اس میں اسلامی نقاط بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ہم جلد بازی میں کوئی اہم فیصلے نہیں کر سکتے لہٰذا احتجاج کرنے والی خواتین اپنا احتجاج ختم کر یں اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کر تے ہوئے میر خالد خان لانگو نے کہا ہے کہ میں الوداعی خطاب میں ایوان سے مخاطب ہوں پانچ سال اس ایوان کا رکن رہنا اعزاز کی بات ہے میں خالق آباد اور قلات کے عوام نے میرا بھر پور ساتھ دیا خزانہ کیس میں جو مجھ پر الزام ہے اور سر خرو ہونگے حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہے کہ ہم عوام کو روزگار نہ دے سکے میرے وجہ سے کسی کی دل آزاری ہوئی معذرت چاہتا ہوںنیشنل پارٹی کی قیادت اور ورکر سے معافی ما نگتا ہوں نیشنل پارٹی کی سیاست ہر چیز سے پاک تھی میری وجہ سے نیشنل پارٹی کی قیادت پر انگلیاں اٹھائی گئی اور میری وجہ سے جو تکلیف گزری ہے میں معذرت چاہتا ہوں اپنے حلقے کے عوام سے محبت ہے مگرکیس کی وجہ سے عوام سے دوررہا انہوں نے کہا ہے کہ میںنے فیصلہ کرلیاکہ میں سیاست سے ریٹائرڈ ہونے کا اعلان کر تا ہوں اور آئندہ سیاست نہیں کرونگا حاجی اسلام نے کہا ہے کہ میر خالد سے التجا کر تا ہوںکہ اپنا فیصلہ واپس لیا جائے پارٹی آپ کے ساتھ ہے سیاست میں یہ چیزیں ہو تی رہتی ہے ڈاکٹر شمع اسحاق نے کہا ہے کہ میر خالد پارٹی کا اثاثہ ہے وہ واپنا فیصلہ واپس لیں

(جاری ہے)