سندھ واٹرکمیشن کی ہدایات پر عملدرآمد کے سلسلے میں کمشنر سکھر ڈویژن کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس

جمعرات مئی 23:37

سکھر۔ 31مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) کمشنر سکھر ڈویژن ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑ نے قریشی گوٹھ میں سیوریج لائین کے اوپر غلط پلاننگ کے ساتھ نالوں کی تعمیر کے ذمیوار ہائی ویز اور پبلک ہیلتھ کے افسران کو قصوروار قرار دیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہاہے کہ متعلقہ محکموں کے افسران کی ناقص اور غلط پلاننگ، غلط ڈزائننگ، بد انتظامی اور کرپشن کی وجہ سے یہ سکیم تباہ ہوچکی ہے۔

ان خیالات کا اظہار سندھ واٹر کمیشن کی ہدایات پر عملدرآمد کے سلسلے میں اپنے آفس کے کانفرنس روم میںطلب کیے گئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔کمشنر سکھر نے کہاکہ ڈسٹرکٹ ہائی ویز اور پبلک ہیلتھ کی غلط پلاننگ کی وجہ سے قومی خزانے کا بڑا نقصان ہوا ہے اب اس اسکیم کو بہتر کرنے کے لئے پبلک ہیلتھ ،میونسپل اور ہائی ویز محکمے مل کر احتیاط سے دوبارہ پلاننگ کریں تاکہ نالوں کی ڈی سلٹنگ ہونے کے بعد اسے دوبارہ الگ کرکے تعمیر کیا جاسکے ۔

(جاری ہے)

کمشنر سکھر ڈویژن ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑ نے میونسپل انجنیئرکو ہدایت کی کہ قریشی روڈ کے دونوں اطراف سے پانی کی سروس لائین ڈالی جائے تاکہ لوگوںکو قانونی طریقے سے کنیکشن دیئے جاسکیں اور گلشن اقبال میں مرحلیوارناجائز تجاوزات کو ختم کرنے کے لئے حکمت عملی بنائی جائے۔کمشنر سکھر نے بتایا کے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سکھر نیو ہائوسنگ سکیموں کی منظوری کے لئے این او سی نہیں لے رہی جس کی وجہ شہروں میں سینیٹیشن، سیوریج اور کارپارکنگ کے بڑے مسائل پیدا ہورہے ہیں ،اس کے لئے کنٹرول بلڈنگ اتھارٹی ،میونسپل،ڈسٹرکٹ کائونسل اور ٹائون پلاننگ کی منظوری لازمی ہے ۔

اجلاس میں ریلویز کے انجینئر نے بتایا کہ قریشی گوٹھ میں ڈرینیج اسکیم میں ریلوے لائین کی وجہ سے مسائل پیدا کرنے والی جگہوں کواین او سی جاری کی گئی ہے ۔اس موقع پر میونسپل کے ٹیکسیشن افسر نے بتایا کہ بلڈرز شہر میں تعمیراتی مٹیریل رکھنے کی اجازت نہین لے رہے اور ان کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتے،جس پر کمشنر سکھر نے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں صفائی ستھرائی کی صورتحال خراب ہے جس کی ذمیوار میونسپل انتظامیہ ہے اس لئے راستوں پر مٹیریل کو رکھ کر ماحول کوخراب کرنے والے بلدرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔