ضلع کونسل خانیوال کے 95کروڑ33لاکھ17ہزار947روپے کا ترمیمی بجٹ کی منظوری

جمعرات مئی 23:40

خانیوال۔31 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) ضلع کونسل خانیوال نے 95کروڑ33لاکھ17ہزار947روپے کا ترمیمی بجٹ کی منظوری دے دی بجٹ کی منظوری ممبر ضلع کونسل /کنونیر ساجد رضا تھہیم کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں دی گئی۔چیئر مین ضلع کونسل نے بجٹ پیش کیا جسے متفقہ طورپر منظورکرلیاگیا۔چیئرمین ضلع کونسل انجینئر محمد رضا سرگانہ نے کہاکہ ترمیمی بجٹ 2017-18کے ابتدائی بقایا جات33کروڑ 20لاکھ 46ہزار روپے ‘ جبکہ آمدن 62کروڑ12لاکھ 71ہزار947 روپے ‘ یوںکل آمدن 95کروڑ33لاکھ17 ہزار947روپے ہے جبکہ اخراجات 90کروڑ 53لاکھ 56ہزار 804روپے ۔

یوں بقایا آخیر سال کی رقم 4کروڑ 79لاکھ61 ہزار139روپے ہے ۔ چیئر مین ضلع کونسل انجینئر محمد رضا سرگانہ نے نئے ہال کی تعمیر کو ایک خواب شرمندہ تعبیر قرار دیا ۔

(جاری ہے)

جس کا کریڈٹ انہوں نے ممبران ضلع کونسل کودیا ۔اپنے خطاب میں انہوں نے مزیدکہا کہ بلدیاتی نظام کے فعال ہونے کے بعد سے ہی ہم کو بہت سے مسائل کا سامنا رہا ہے ۔ وسائل کی کمی جبکہ مسائل کی بہتات ان سب میں سے اہم مسئلہ رہا۔

انہوںنے کہا کہ ہمیں نئے سرے اداروں کو بنانا او رپھر چلانا پڑا ہے ۔ انجینئر محمد رضا سرگانہ نے مزیدکہا کہ ہمارا ضلع مشکل حالات کے باوجود ٹیکسوں کی وصولی میں بہت سے اضلاع سے آگے ہے۔ انہو ںنے بتایاکہ ہم نے ڈیڑھ سال کے دوران تقریباً14کروڑ روپے کی لاگت سے ضلع بھر کے قبرستانوں میں 1لاکھ 10ہزار فٹ چار دیواری تعمیر کی جبکہ مزید 2لاکھ فٹ چار دیواری تعمیر کریں گے۔

انہو ںنے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ ہم نے کم وبیش 10لاکھ فٹ سولنگ و نالیوں کی تعمیر کی ہے ۔ اورآئندہ سالوں میں 50لاکھ فٹ گلیات اور نالیاں اور سڑکیں تعمیر کریں گے ۔انہوںنے ممبران ضلع کونسل سے کہا کہ وہ عوام کو اس امر سے آگاہ کریں کہ ٹیکسوں کی ادائیگی کے بغیر ضلع ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوںنے بتایاکہ 2017 -18کے دوران وصولیوں کا تخمینہ 52کروڑ 30لاکھ92ہزار لگایا گیا تھا لیکن ہم نے محنت کر کے یہ رقم 62کروڑ12لاکھ 71ہزار تک پہنچا دی ہے ۔

جبکہ منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی مد میں پانچ کروڑ روپے اور نقشہ فیس کی مد میں ڈیڑھ کروڑ روپے ‘ اور کرایہ پراپرٹی کی مد میں تیس لاکھ روپے آمدن ہوئی ہے ۔ انہو ںنے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے پی ایف سی شیئر میں 7کروڑ39لاکھ حکومت پنجاب نے ادا کرنا تھے لیکن بوجوہ نہیں ملے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے حال میں فرنیچر اور دیگر سامان کی مد میں ایک کروڑ 40لاکھ روپے مختص کیاجانا ضروری ہے جبکہ درجہ چہارم کے ملازمین کے ہائوس بلڈنگ ایڈوانس کی مد میں 35لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔