مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پانچ سالہ دور اقتدار میں امن و امان کی صورتحال بہتر ، توانائی بحران میں کچھ کمی آئی،

پی آئی اے اور سٹیل مل کے نقصانات 900 ارب روپے تک جا پہنچے، بجلی ساڑھے نو روپے یونٹ سے تیرہ روپے یونٹ ہو گئی،گردشی قرضہ ریکارڈ سطح تک جا پہنچا، سرمایہ کاری کا ہدف بھی حاصل نہیں کیا جا سکا اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ کا بیان

جمعہ جون 09:50

اسلام آباد ۔ یکم جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پانچ سالہ دور اقتدار کے دوران سیاسی ادارے اور معیشت مستحکم نہ ہو سکی جبکہ قرضوں میں اضافے سے اقتصادی چیلنجز میں اضافہ ہو ا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میںشرح نمو اور قرضوں میں اضافہ ہوا ہے، امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے جس کا کریڈٹ فوج کو جاتا ہے جبکہ توانائی بحران میں کچھ کمی آئی ہے مگر روپے کی قیمت میں بھی کمی ہوئی ہے۔

شاہد رشید بٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ن لیگ کے منصوبہ کے مطابق برآمدات میں دگنے سے زیادہ اضافہ اور مالی خسارے کو چار فیصد تک لانا تھا جو5.5 فیصد تک بڑھا ہے، ٹیکس کا تناسب 15 فیصد تک بڑھانا تھا جو13 فیصد ہے جبکہ سرکاری کارپوریشنوں کے نقصانات کو 400 سو ارب روپے تک لانا تھا مگر ایسا نہ ہو سکا کیونکہ کسی بھی ادارے کی حالت بہتر کی جا سکی اورنہ ہی نجکاری ہو سکی جسکی وجہ سے پی آئی اے اور سٹیل مل کے نقصانات 900 ارب روپے تک جا پہنچے۔

(جاری ہے)

تیل کی کم قیمتوں کے باوجودموجودہ حکومت نے بجلی کی قیمت کو ساڑھے نو روپے یونٹ سے تقریباً تیرہ روپے تک پہنچا دیا جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گیا اور برآمدات کم ہوئیں مگر بھر بھی گردشی قرضہ ریکارڈ سطح تک جا پہنچا۔ شاہد رشید بٹ نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری کا ہدف بھی حاصل نہیں کیا جا سکانہ ہی ترسیلات کا رخ بہتری کی جانب موڑا جا سکا۔

انہوں نے کہا کہ ایل این جی پر غیر ضروری فوکس کی وجہ سے پانچ سال میں تیل یا گیس کی ایک بھی قابل زکر دریافت نہیں ہو سکی اور گیس کے شعبہ میں بھی گردشی قرضہ نے جنم لیا۔علاقائی تجارت بڑھا کر معیشت کو مستحکم کرنے اور نوجوانون کیلئے روزگار پیدا کرنے کے وعدے پر بھی عمل نہ کیا جا سکا اور چین کے علاوہ کسی بھی پڑوسی ملک سے تعلقات بہتر نہ ہو سکے۔