اسرائیلی حکام کی طرف سے مقبوضہ غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کی منظوری قابل مذمت ہے،عرب لیگ

جمعہ جون 11:10

قاہرہ۔یکم جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) عرب ملکوں کی نمائندہ تنظیم عرب لیگ نے مقبوضہ غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں سے ہتھیائے گئے علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لئے ہزاروں نئے رہائشی مکانات تعمیر کرنے کے حالیہ اسرائیلی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔تنظیم کے اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری سعید ابو علی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہودی آبادکاروں کے لئے نئے گھروں کی تعمیر کا اعلان دراصل فلسطینی عوام کے خلاف مسلسل جارحیت ہے اور یہ بین الاقوامی قانون اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان طے پانے والے معاہدات کی خلاف ورزی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ یہودی آبادکاری کے منصوبوں میں توسیع کے منصوبے بین الاقوامی پوچھ گچھ کے بغیر جاری ہے۔ یہ سب کارروائیاں بین الاقوامی برادری کی خواہشات کے علی الرغم امریکی نگرانی اور حوصلہ افزائی میں کی جا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

سعید ابوعلی نے مقبوضہ مشرقی یروشیلم کے علاقے خان الاحمر میں بدووں کے مکانات مسمار کرنے کے اس حکم کی شدید مذمت کی جسے اسرائیلی ہائی کورٹ نے تمام مسلمہ قوانین اور بین الاقوامی برادری کی مذمت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جاری کیا۔

فلسطین اور اسرائیلی کے درمیان جاری امن عمل کو یہودی بستیوں کی تعمیر کی وجہ سے خطرات لاحق ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع نے حال ہی میں مقبوضہ غرب اردن اور یروشیلم میں یہودیوں کے لئی3900 رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کی منظوری دی تھی۔