سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کی تاحیات نا اہلی کالعدم قرار

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ جون 11:11

سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کی تاحیات نا اہلی کالعدم قرار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ یکم جون 2018ء) : سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کے تاحیات نا اہلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے خواجہ آصف کی تاحیات نا اہلی کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کی ۔ سماعت میں سپریم کورٹ نے خواجہ آصف کی تاحیات نا اہلی کو کالعدم قرار دے دیا۔

اپیل پر مختصر فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے سنایا۔کیس کا تفصیلی فیصلہ کچھ دیر میں جاری کیا جائے گا۔ تاحیات نا اہلی کالعدم قرار ہونے کے تحت خواجہ آصف عام انتخابات 2018ء میں حصہ لے سکیں گے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ میں خواجہ آصف کی نااہلی کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ خواجہ آصف نے پی ٹی آئی رہنماء عثمان ڈار کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چینلج کر رکھا تھا۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ میں خواجہ آصف نااہلی کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے عثمان ڈارکے وکیل سکندربشیرکے دلائل دیے کہ خواجہ آصف کی تنخواہ کی سالانہ آمدن 20 لاکھ درہم سے زائد بنتی تھی۔۔خواجہ آصف نے صرف بطوررکن قومی اسمبلی اپنی تنخواہ ظاہرکی۔ خواجہ آصف نے کاغذات نامزدگی میں غیرملکی تنخواہ کو ظاہرنہیں کیا۔ وکیل عثمان ڈار نے مزید دلائل دیے کہ کاغذات نامزدگی میں بیرون ممالک کے اثاثے اورٹیکس ظاہرکرنے کا فارم موجود ہے۔

وکیل عثمان ڈار کے دلائل پرجسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ عثمان ڈارنے الیکشن پٹیشن میں یہ نکات نہیں اٹھائے۔ 2011 میں ملازمتوں کے معاہدے کا ذکرنہیں کیا گیا۔ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں خواجہ آصف نے یہ تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولا گیا یا نہیں،اس کا تعین کرنا ہے۔ تنخواہ کاغذات نامزدگی کے فارم میں کہاں دکھانا ضروری ہے،ہمیں کالم دکھائیں؟ وکیل عثمان ڈار نے دلائل دیے کہ 2010ء میں34 ملین روپے کاروبارسے وصول ہوئے اسکی تفصیلات کا ذکرنہیں۔

34ملین روپے کی ترسیلات زرکا ذریعہ آمدن ظاہرنہیں کیا گیا۔3.8 ملین کے ترسیلات زر2011ء میں وصول ہوئے جنہیں کاغذات نامزدگی میں ظاہرنہیں کیا۔ وکیل نے مزید کہا کہ خواجہ آصف نے6 ہزار سے زائد ایک سال کا ٹیکس دیا۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم انکم ٹیکس کے معاملے میں نہیں جائیں گے۔ کیا ہم اسے انکم ٹیکس میں غلطی کہہ سکتے ہیں؟ وکیل عثمان ڈار نے دلیل پیش کی کہ خواجہ آصف نے الیکشن کمیشن سے تفصیلات چھپائیں۔

جس پرجسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ہمارے پاس مقدمہ آرٹیکل62 ایف ون سےمتعلق ہے۔ مقدمہ آرٹیکل62 ون ایف کے تحت مس ڈکلیئریشن نہیں بنتا توپھرمعاملہ اگلا ہوگا۔ جسٹس عمرعطا بندیال نےاپنے ریمارکس میں کہا کہ کیا بیرون ملک سے وصول ترسیلات زرکوظاہرکرنا لازمی ہے؟ کیا مفادات کا ٹکراؤ آرٹیکل 62 ون ایف کا نفاذ ہوتا ہے؟تنخواہ کا مطلب اگرمحفوظ شدہ رقم ہواورفریق کہے کہ میں نے تنخواہ خرچ کردی تو پھر کیا ہوگا؟ کوشش ہے آج سماعت مکمل کرلیں۔

کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولا گیا یا نہیں،اس کا تعین کرنا ہے۔تنخواہ کاغذات نامزدگی کے فارم میں کہاں دکھانا ضروری ہے، ہمیں کالم دکھائیں۔ وکیل عثمان ڈار کے دلائل پرجسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ آپ ہم سے نااہلی مانگ رہے ہیں۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ ہم کسی کو نااہل یا اس کے مستقبل کو تباہ نہیں کرنا چاہتے۔ بظاہر خواجہ آصف نے تنخواہ ظاہر کی ہے۔

آمدن ظاہر کرنے پرکسی کو نااہل نہیں کر سکتے۔ معلوم نہیں ساتھی ججزاس بات سے متفق ہیں یا نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ خواجہ آصف نے تاحیات نا اہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل دائر کر رکھی تھی۔ قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے 26 اپریل کو تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا کہ خواجہ آصف کو متحدہ عرب امارات کی وزارت محنت کی جانب سے لیبر کیٹیگری کا شناختی کارڈ جاری ہوا اور ملازمت کی وجہ سے ہی انہیں اقامہ بھی جاری ہوا،2013 کے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت یہ ملازمت ہی خواجہ آصف کا بنیادی پیشہ تھا۔