بھارتی حکمران جماعت کے لئے ضمنی انتخاب کے نتائج ایک بڑا جھٹکا،

2019 کی راہ آسان نہیں

جمعہ جون 13:26

نئی دہلی۔ یکم جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) بھارت میں چار لوک سبھا اور 11 اسمبلی کی نشستوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے 2019 کے عام انتخابات سے پہلے ایک بڑا دھچکا ہے، جبکہ یہ حزب اختلاف کے اتحاد کی علامت ہے۔۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بی جے پی کو دو لوک سبھا کی نشستیں کھو نی پڑی ہیں اور وہ ایک نشست حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں.اترپردیش میں کیرانہ لوک سبھا اور نورپر اسمبلی کیلئے ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت جھٹکا لگا ہے۔

کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخابات میں راشٹریہ لوک دل کی امیدوار تبسم حسن نے بی جے پی امیدوار مرگانا سنگھ کو 46،618 ووٹوں سے شکست دی۔ نورپور اسمبلی سیٹ پر سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے نعیم الحسن نے بی جے پی کی اون سنگھ کو 5678 ووٹوں سے شکست دی۔

(جاری ہے)

گورکھپور اور پھول پور لوک سبھا سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کے بعد کیرانہ اور نورپور سیٹوں پر بی جے پی کو ملنے والی شکست کو 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر پارٹی کے لئے بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے۔ کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخابات میں آر ایل ڈی کی امیدوار تبسم حسن نے کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر قبضہ کیا ہے۔ آر ایل ڈی کے امیدواروں نے 4،81182 ووٹ حاصل کیے اور بی جے پی کے امیدواروں نے 4،36564 ووٹ حاصل کیے۔

متعلقہ عنوان :