سعودی عرب: اصلاحی اقدامات کے باعث خواتین بااختیاری کی طرف گامزن

سعودی خواتین کے پاس پُرامُید اور خوش نظر آنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ وہ یوں کہ ایک ریسرچ سٹڈی بتاتی ہے کہ سعودی خواتین نے پچھلے دو برسوں کے دوران کس حیرت انگیز رفتارسے ترقی کی ہے

جمعہ جون 14:14

منامہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ یکم جُون 2018ء) سعودی خواتین کے پاس پُرامُید اور خوش نظر آنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ وہ یوں کہ ایک ریسرچ سٹڈی بتاتی ہے کہ سعودی خواتین نے پچھلے دو برسوں کے دوران کس حیرت انگیز رفتارسے ترقی کی ہے۔ وہ سب کچھ جو چند ماہ قبل دیوانے کا خواب دکھائی دیتا تھا‘ اب سعودی عرب کے طبقہٴ نسواں کے لیے ایک حسِین حقیقت کا رُوپ دھار چُکا ہے۔

حکومتی اصلاحی اقدامات پر مبنی یہ خوشگوار حقیقت اُن کے لیے مستقبل میں ترقی کی نئی راہیں کھول دے گی۔ اب وہ اُن پیشوں میں شمولیت اختیار کریں گی جن کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ یہ صرف مردوں کے لیے مخصوص ہیں‘ اور خواتین انہیں سرانجام نہیں دے سکتیں۔ وہ دُنیا کو یہ بتانے کے لیے پُرعزم ہیں کہ اب وہ حقوق نسواں کے مخالف اور اُن کی صلاحیتوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرنے والوں کو اُن کی راہ میں روڑے نہیں اٹکانے دیں گی۔

(جاری ہے)

ان مزاحمتی خیالات کا اظہار سعودی شہزادی ریما بنت بندر السعود( جو کہ سعودی فیڈریشن آف کمیونٹی سپورٹس کی صدربھی ہیں) نے جنوری 2018ء میں ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کے دوران اُن عورت مخالف افراد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کیا جو سعودی ریاست میں خواتین کو دی جانے والی حالیہ آزادی اور مراعات پر خفا نظر آتے ہیں۔اس حوالے سے اُنہوں نے کہا : ””کچھ لوگوں نے پکا ارادہ کر لیا ہے کہ وہ ہمیں ایک نئے بیانیہ تشکیل دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔

میرا سوال ہے ‘کیوں؟ آپ ہم سے تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں‘ اور جب ہم تبدیلی لاتے ہیں‘ آپ ہم سے خفا ہو جاتے ہیں۔ ہم صنفی مساوات کو اس لیے ترویج نہیں دے رہے کہ مغرب ایسا چاہتا ہے‘ نہ ہی ہم خود کو ہیومن رائٹس واچ کی تنقید کا نشانہ بننے سے بچانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں ‘ اور نہ ہم اس معاملے پر ایمننسٹی انٹرنیشنل سے شاباش لینا چاہتے ہیں۔ ہم ایسا محض اس لیے کر رہے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے۔“

متعلقہ عنوان :