ٹیکس گزار رو رہا ہے ،

وزیر ڈھائی ڈھائی کروڑ روپے کی گاڑیاں استعمال کررہے ہیں‘چیف جسٹس آف پاکستان

جمعہ جون 14:36

ٹیکس گزار رو رہا ہے ،
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت آج (ہفتہ ) تک ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ ٹیکس گزار رو رہا ہے اور وزیر ڈھائی ڈھائی کروڑ روپے کی گاڑیاں استعمال کررہے ہیں۔گزشتہ روز چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کی ۔

سابق وزیر قانون زاہد حامد عدالتی حکم پر عدالت میں پیش ہوئے۔۔چیف جسٹس نے زاہد حامد سے استفسار کیا کہ آپ 3 لگژری گاڑیاں کس حیثیت سے استعمال کررہے تھی ۔ جس پر زاہد حامد نے بتایا کہ ان کے زیر استعمال ایک گاڑی تھی اور کابینہ ڈویژن کی منظوری سیگاڑی استعمال کی۔

(جاری ہے)

جسٹس ثاقب نثار نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیاکہ وزراء کتنے سی سی گاڑی رکھنے کا استحقاق رکھتے ہیں ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزرا ء 1800سی سی گاڑی استعمال کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔اس پر وزیر قانون زاہد حامد نے عدالت میں موقف اپنایا کہ اس حوالے سے ان کے علم میں نہیں، اس پر چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ آپ نے قانون دیکھے بغیر گاڑی کا استعمال کیسے شروع کردیا ۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر بڑی گاڑیوں کی منظوری دی۔

چیف جسٹس نے اس پر کہا کہ بیرون ملک تو وزیراعظم کھوکھا (کیبن) بھی نہیں دے سکتا، عدالت جائزہ لیگی کہ وزیراعظم نے کیسے اور کس قانون کے تحت منظوری دی جبکہ عدالت نے ساتھ ہی آج بروز ہفتہ ) وزیراعظم کی منظوری کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکس گزار رو رہا ہے اور وزیرڈھائی ڈھائی کروڑ روپے کی گاڑیاں استعمال کررہے ہیں، وزراء کھاتے پیتے لوگ ہیں اپنے پاس سے گاڑیاں کیوں نہیں رکھتی ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ استحقاق کے بغیر دی گئی 30 گاڑیاں واپس لے لی گئی ہیں۔بعدا ازاں عدالت نے درخواست پر مزید سماعت آج تک کے لیے ملتوی کر دی۔