قطبہ میں خاتون اور بچیوں کے قتل میں ملوث دو ملزمان ضمانت پر رہا

جمعہ جون 14:54

ہری پور۔ یکم جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) ایڈیشنل سیشن جج نے ہری پور کے علاقہ قطبہ میں قتل ہو نے والی خاتون اور تین بچیوں کے الزام میں گرفتار دو ملزمان کو ضمانت پر رہا کرا کرنے کا حکم دیدیا، چاروں مقتولین کی نعشیں 6 مئی کو گھر کے کمروں سے علٰحیدہ علحیدہ ہاتھ پائوں بندھی برآمد ہوئی تھیں، عدالت نے ملزمان کو ایک لاکھ دو نفر ضمانت نامے جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔

تفصیلات کے مطابق 6 مئی 2018ء کو رفاقت ولد چنن خان قوم گجر سکنہ قطبہ خانپور نے تھانہ خانپور میں رپورٹ درج کرواتے ہوئے بتایا کہ اس کا بھائی شفاقت زمان لین دین کے مقدمات میں دو سال سے اشتہاری ہے اور گھر نہیں آتا، آج صبح دودھ والا ہمارے گھر آیا جس نے بتایا کہ شفاقت زمان کے گھر کا دروازہ کوئی نہیں کھول رہا جس پر وہ اپنی والدہ کے ہمراہ بھائی شفاقت زمان کے گھر گیا تو تین کمروں میں علٰحیدہ علحیدہ بھابی صدف شفاقت زوجہ شفاقت زمان، بیٹیاں ایمان شہزادی عمر 8 سال، زرقہ شہزادی عمر 6 سال اور زینب عمر 4 سال کی نعشیں ہاتھ پائوں بندھی ہوئی موجود تھیں جبکہ نعشوں کے قریب دو ڈبے جوس، دو گلاس اور مقتولہ صدر شفاقت کے کمرے میں قدرے مشکوک پائوڈر موجود تھا، ہمیں شک ہے کہ مقتولین کو کسی شخص یا اشخاص نے بذ ریعہ زہر خورانی یا کسی دیگر طریقہ سے قتل کیا ہے، وجہ عداوت معلوم نہیں ہے البتہ ہمارے بھائی شفاقت کے کئی لوگوں کے ساتھ لین دین کا معاملہ ہے، بعد ازاں پولیس نے گھر کے سربراہ شفاقت زمان کو گرفتار کیا جس نے پولیس کے سامنے اقرار جرم کر لیا اور سا تھ ہی ملزم یاسر الرحمن اور صدام اختر کو صلاح مشورے کیلئے نامزد کیا جس پر پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے تین روزہ ریمانڈ بھی حا صل کیا۔

(جاری ہے)

گذشتہ روز دونوں ملزمان کی درخواست ضمانتوں کی سماعت کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج افتخار الہٰی نے ملزمان یاسر الرحمن اور صدام اختر کو ایک لاکھ دو نفری ضمانت کے مچلکے جمع کروانے پر رہائی کے احکامات جاری کر دیئے۔ ملزمان کی جانب سے مقدمہ کی پیروی معر وف قانون دان خورشید اظہر ایڈووکیٹ اور عدنان سعید ایڈووکیٹ نے کی۔