شہباز شریف کے بیان پر چودھری نثار علی خان کا سخت رد عمل

معروف صحافی نے اندرونی کہانی بیان کر دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ جون 14:41

شہباز شریف کے بیان پر چودھری نثار علی خان کا سخت رد عمل
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ یکم جون 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی عارف نظامی نے کہا کہ شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان کی آپس میں کی جانے والی بیان بازی ایک ٹوپی ڈرامہ ہے ، انہوں نے کہا کہ چودھری نثار علی خان ، شہباز شریف کے بڑے یار غار ہیں۔ نثار جب بھی لاہور آتے ہیں تو وہ اور شہباز شریف اکٹھے ہی ہوتے ہیں۔

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ چودھری نثار علی خان ان کے نہیں بلکہ نواز شریف کے دوست ہیں اور وہ نواز شریف کو ان کی شکایت کیا کرتے تھے ۔ عارف نظامی نے کہا کہ شہباز شریف ٹیکنوکریٹ قسم کی شخصیت ہیں، ان کا کوئی دوست نہیں ہے۔چودھری نثار بھی سیاست میں آنے کے بعد ان کے دوست بنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ بھی نہیں ہے صرف ڈرامہ ہے۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ دو روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے راجن پور کے دورے کے موقع پر نجی ٹی وی سے کو ایک واقعہ سناتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ 1988ء کی بات ہے، جب چوہدری نثار کی اصل دوستی نوازشریف کے ساتھ تھی۔

جبکہ اس زمانے میں چوہدری نثار میرے سخت مخالف تھے۔ چوہدری نثار میرے خلاف اکثر نوازشریف کو شکایات کرتے تو مجھے نوازشریف سے ڈانٹ پڑتی۔ لیکن کچھ عرصہ ایسے ہی گزرا تو بعد میں چوہدری نثار میرے گہرے دوست بن گئے۔۔چوہدری نثار میں بچپنا ہے اور بچے کو منانا پڑتا ہے۔ چوہدری نثار میں بچپنا ضرور ہے اور ہم اس کومناتے رہتے تھے۔ انہوں نے ایک سوال ’’چوہدری نثار اب مان جائیں گے؟‘‘ کے جواب میں کہا کہ اللہ خیر کرے گا۔

جس پر چودھری نثار علی خان نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ حیرت ہے کہ شہبازشریف کو بچپنے اور سنجیدہ عمل میں فرق کا احساس نہیں،بچپنا وہ عمل ہے جو ان کی پارٹی قیادت اس وقت روا رکھے ہوئے ہے،بطور پارٹی صدر شہبازشریف بھی اس کے مداوے کیلئے کچھ نہیں کرپارہے ہیں۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے اپنے سے منسوب بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف گھمبیر اور مشکل صورتحال سے نکلنے پر توانائیاں خرچ کریں۔

بطور پارٹی صدر شہبازشریف بھی اس کے مداوے کیلئے کچھ نہیں کرپارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حیرت ہے کہ شہبازشریف کو بچپنے اور سنجیدہ عمل میں فرق کا احساس نہیں،بچپنا وہ عمل ہے جو ان کی پارٹی قیادت اس وقت روا رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو مشورہ ہے کہ وہ 30سال پرانی باتوں کا تذکرہ نہ کریں۔