مذہبی ہم آہنگی کی اور مثال قائم

بھارت میں مسلمان مریضوں کی سحری کا انتظام ہندو نوجوان کرنے لگے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ جون 15:09

مذہبی ہم آہنگی کی اور مثال قائم
بھارت (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ یکم جون 2018ء) : ماہ رمضان کے آتے ہی دنیا بھر کے مسلمان روزے رکھتے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ ماہ رمضان میں ہمیں مذہبی ہم آہنگی کی کئی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد مسلمانوں کو ماہ رمضان کی مبارک دیتے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ ایسے ہی بھارت کے ایک شہر میں بھی کچھ نوجوان افراد نے مل کر اسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ موجود رشتہ داروں کی سحری کے انتظام کا بیڑہ اُٹھا لیا۔

شیلندرا ڈوبے اور ان کے دیگر ساتھی رمضان المبارک میں سحر کے اوقات سے پہلے ہی اپنے بستروں سے نکل کر سحری بنانے میں مصروف ہو جاتے ہیں، ایسا اس لیے نہیں کہ انہوں نے روزہ رکھنا ہوتا ہے بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کے ساتھ آئے رشتہ داروں کو سحری پہنچانا ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

یہ خیال شلیندرا ڈوبے کو تب آیا جب ان کے والد اسپتال میں زیر علاج تھے اوراسی وارڈ میں ایک مسلمان خاتون بھی موجود تھیں جو سحری کے وقت صرف پانی پیتی تھیں کیونکہ اتنی صبح کہیں بھی کھانے کی کوئی دکان نہیں کھُلتی تھی نہ ہی کچھ کھانے کو دستیاب ہوتا تھا۔

رشی راج ڈینٹل کالج کی طالبہ شلیندرا نے بتایا کہ 19 مئی کو میرے والد کو ہارٹ اٹیک ہوا،جس پر انہیں فوری طور پر حمیدیہ اسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ جب میں رات ان کے پاس ٹھہری تو میں نے ایک مسلم خاتون کو دیکھاجو سحری میں کچھ کھانے کی بجائے صرف پانی پی رہی تھیں، چونکہ رات کے 3 بجے کہیں بھی کھانا دستیاب نہیں ہوتا،یہ دیکھ کر ہی میں نے ایسے لوگوں کے لیے کچھ کرنے کی ٹھانی،میں نے اپنے دوستوں کو بلایا اور ہم نے شہر کے مختلف اسپتالوں میں موجود مسلمان لوگوں کو ماہ رمضان میں سحری پہنچانے کا فیصلہ کیا۔

چونکہ ہم کوئی نوکری نہیں کرتے لہٰذا ہم نے ایسے لوگوں کی مدد کرنے کے لیے اپنے جیب خرچ میں سے 50 روپے بچانا شروع کیے،ہم روزے داروں کو ایک آملیٹ، چار پراٹھے اور دودھ کا ایک گلاس دیتے ہیں،انہوں نے مزید بتایا کہ میرے دوستوں نے اس کام میں میری بے حد مدد کی، میں اور میرا ایک دوست سید علی علی الصبح روزے داروں کو سحری پہنچانے کا کام کرتے ہیں جبکہ ہمارے باقی دوست گھر میں سحری کا کھانا تیار کرتے ہیں۔

ہم نے سوشل میڈیا سائٹ پر اپنا نمبر بھی دینا شروع کر دیا تاکہ ہم اسپتال میں موجود مسلم رشتہ داروں سے متعلق معلومات حاصل کر کے ان تک سحری پہنچا سکیں، شروتی سونی نامی ایک ممبر کا کہنا تھا کہ میں نے دو روز قبل ایک بڑی عمر کی خاتون کو سحری پہنچائی تو انہوں نے مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیں، ایک اور ممبر کا کہنا تھا کہ میں امتحان کی وجہ سے تھک جاتی ہوں لیکن تھکن کے باوجود میں سحری پہنچانے کا کام ضرور کرتی ہوں، مجھے ایسے لوگوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنا بہت اچھا لگتا ہے تو مجبوری کے تحت صرف پانی سے ہی روزہ رکھتے ہیں،ایک اور ممبر نے بتایا کہ میں کٹر ہندو خاندان سے تعلق رکھتی ہوں، پہلے پہل تو میرے خاندان نے میرے اس کام کا بے حد بُرا منایا لیکن اب جب وہ دیکھتے ہیں کہ اسپتالوں میں لوگ ہمارے دئے ہوئے کھانے سے سحری کرتے ہیں تو وہ بھی ہماری حمایت کرتے اور ہمیں سپورٹ کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ تہار جیل میں قید 59 ہندو قیدیوں نے بھی اپنے 2 ہزار 299 مسلمان ساتھی قیدیوں کے ساتھ ماہ رمضان میں روزے رکھنا شروع کر دئے ہیں۔ ہندو قیدیوں کا کہنا ہے کہ مذاہب مختلف ہونے کے باوجود ہماری روزے رکھنے کی اپنی وجہ ہے۔ جبکہ سوشل میڈیا پر ایک سکھ بزرگ کی ویڈیو وائرل ہوئی جو روز صبح ڈھول بجا کر مسلمانوں کو سحری کے لیے جگاتے ہیں۔ڈھول بجانے سے پہلے یہ سکھ بزرگ اپنے آواز میں کہتا ہے کہ ''اللہ کے رسولﷺ کے پیارو، جنت کے طلبگارو ، اُٹھو اور روزہ رکھو۔