پیپلز پارٹی کو تلوار کا انتخابی نشان الاٹ کئے جانے کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کی جانب سے احتجاجی مراسلہ الیکشن کمیشن کو ارسال

جمعہ جون 15:23

اسلام آباد ۔ یکم جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) پیپلز پارٹی کو تلوار کا انتخابی نشان الاٹ کئے جانے کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کی جانب سے احتجاجی مراسلہ الیکشن کمیشن کو ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی جماعت کو تیر اور تلوار کا انتخابی نشان الاٹ کرنا جمہوری اقدار اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کے صدر ڈاکٹر صفدر علی عباسی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کے نام لکھے گئے اس احتجاجی مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے تلوار کے نشان کے لئے درخواست دینے کا مقصد صرف اس انتخابی نشان کو بلاک کرنا ہے کیونکہ ان کی جماعت کے پاس پہلے ہی تیر کا نشان موجود ہے جبکہ کئی کیسوں میں پہلے آیئے اور پہلے پایئے کی بنیاد پر درخواستوں پر انتخابی نشانات کے فیصلے کئے گئے ہیں تاہم اس کیس میں آپ نے اس اصول کو مدنظر نہیں رکھا۔

(جاری ہے)

الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ فیصلہ یکطرفہ اور اس کی ساکھ پر اس سے سنجیدہ سوالیہ نشان اٹھے گا۔ جب الیکشن کمیشن کی جانب سے تلوار کا نشان پیپلز پارٹی کو الاٹ کیا گیا تو اسی وقت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے یہ اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی اپنے انتخابی نشان تیر پر انتخاب میں حصہ لے گی جو میرے اعتراض کا اعتراف ہے۔