بم دھماکے میں معذور ہونے والا پولیس اہلکار نوکری سے فارغ

جمعہ جون 16:42

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) بم دھماکے میں معذور ہونے والے پولیس اہلکار کو غیر قانونی بھرتی کا الزام لگا کر نوکری سے فارغ کردیا گیا، پولیس بس پر حملے میں ارشد سمیت 4 اہلکار معذور ہوئے تھے۔تفصیلات کے مطابق فرض کی ادائیگی کے دوران بم دھماکے میں معذور پولیس اہلکار کو نوکری سے فارغ کردیا گیا، اسکروٹنی کمیٹی کے سربراہ نے قربانی دینے والے سپاہی کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ آپ معذور ہیں تو کیا کریں۔

ارشد سمیت 3 معذور اہلکار امتحان پاس نہ کرسکے تو نوکری سے فارغ کردیا گیا دوسری طرف غیر قانونی طریقے سے بھرتی ہونے والے اہلکاروں کا بھی امتحان لیا گیا، 19 سفارشیوں کے لیے میرٹ کو نظر انداز کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار ارشد ایس آر پی میں بھرتی ہوا اور رزاق آباد ٹریننگ سینٹر سے پولیس بس میں ڈیوٹی پر نکلا تھا کہ بس پر بم دھماکہ ہوا اور دھماکے کے نتیجے میں کئی اہلکار شہید ہوئے اور ارشد سمیت متعدد اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

(جاری ہے)

بم دھماکے میں سپاہی ارشد ٹانگ سے محروم ہوگیا اور پولیس کی جانب سے اس کے علاج معالجے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی بلکہ اس کو نوکری سے برطرف کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق معذوروں کا بھی امتحان ہوا اور چند نمبروں سے رہ جانے والے معذور اہلکاروں کو انصاف ایسے دیا گیا کہ انہیں نوکری سے ہی نکال دیا گیا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ایس آر پی میں غیر قانونی بھرتی ہونے والے اہلکاروں کی دوبارہ سے اسکروٹنی کی جائے، اسکروٹنی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی ہیں اور پوری ٹیم تشکیل دی گئی تھی جنہوں نے اہلکاروں کے دوبارہ امتحان لینا تھے۔