پہلی بار سعودی شہزادی عربی فیشن میگزین ووگ کے سرورق پر

فیشن میگزین کے سر ورق پر سعودی شہزادی کی تصویر پر تنازع کھڑا ہو گیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ جون 15:41

پہلی بار سعودی شہزادی عربی فیشن میگزین ووگ کے سرورق پر
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) فیشن کے معروف میگزین ووگ نے اپنے عربی ایڈیشن کے جون کے شمارے کو خواتین کے نام کرتے ہو ئے سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے اور جنسی ہراساں کرنے کے قانون کی منظوری کے حوالے سے سرِورق پر سعودی شہزادی کی کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہو ئے تصویر شائع کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ 2 سال سے تیزی سے تبدیل ہوتے اسلامی ملک سعودی عرب میں پہلی بار ایک شہزادی معروف فیشن میگزین ووگ کے عربی شمارے کی سرورق کی زینت بنی ہیں۔

سابق بادشاہ عبداللہ کی بیٹی اور 3 بچوں کی والدہ حیفا بنت عبداللہ السعود کی تصویر کو ووگ عربی کے شمارے کی زینت ایک ایسے وقت میں بنایا گیا ہے۔جب کہ رواں ماہ سعودی عرب میں خواتین پہلی بار ڈرائیونگ کرتی دکھائی دیں۔

(جاری ہے)

میڈیارپورٹس کے مطابق فیشن میگزین کے سرورق پر شائع کی گئی سعودی شہزادی کی تصویر کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں 1980 کی دہائی کی مرسڈیز 450 ایس ایل کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سعودی شہزادی کو لیدر کے دستانے پہنے ہوئے ہیں اور وہ سفید رنگ کے عبائے میں جاذب نظر دکھائی دے رہی ہیں۔تاہم دوسری جانب فیشن میگزین کے سرورق پر عام خاتون یا ماڈل کے بجائے سعودی شہزادی کی تصویر شائع کرنے پر لوگوں نے تنقید بھی کی۔فیشن میگزین کے سر ورق پر سعودی شہزادی کی تصویر پرایک تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔کچھ لوگوں نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔

ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا ہے کہ کیا یہ مذاق ہے؟ سعودی شہزادی ایک میگزین کے کور کو دلکش بنا رہی ہیں جب کہ دوسری طرف کئی خواتین نے ڈرائیونگ سے پابندی ہٹانے کے لیے جیل کاٹی ہے۔ایک اور سوشل میڈیا صارف کا کہنا ہے کہ
جب میں کہتی ہوں کہ سعودی عرب میگزین کو ایک نسلی عرب کی تصویر کور پر لگانی چاہئیے۔

تو میرے کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے۔ حیفا بنت عبداللہ السعود کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی طور پر ان تبدیلیوں کی پرجوش حمایت کرتی ہیں۔یاد رہے کہ شہزادی ہیفا شاہ عبدالعزیز کی صاحبزادی ہیں جنھوں نے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی لگائی تھی۔۔سعودی شہزادی کا میگزین میں کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں بعض قدامت پرست ہیں جنھیں تبدیلی سے ڈر لگتا ہے۔ بہت سوں کے لیے یہی وہ سب کچھ ہے جو انھیں معلوم ہے۔لیکن میں ایسی تبدیلیوں کی پرجوش حمایت کرتی ہوں۔