پی ایف سی کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق کی نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

معیشت کو مضبوط بنانے اور جمہوریت کے فروغ و استحکام کے لئے منصفانہ، آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد انتہائی ضروری ہے، میاں کاشف اشفاق

جمعہ جون 16:43

لاہور ۔ یکم جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) پاکستان فرنیچر کونسل (پی ایف سی)) کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ قومی معیشت کو مضبوط بنانے اور جمہوریت کے فروغ و استحکام کے لئے منصفانہ، آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد انتہائی ضروری ہے۔ جمعہ کو نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ بر وقت اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں گے۔

میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت معاشی میدان میں ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی اور ان کے قول و فعل میں بہت بڑا تضاد تھا جبکہ اس دور میں ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا اور امیر و غریب کے درمیان خلیج بھی وسیع ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت اہم اقتصادی مسائل کو حل کرنے میں بھی ناکام رہی اور اس دور میں بیرونی قرضوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا اور جون 2017 تک یہ بوجھ بڑھ کر 83 بلین ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ جون 2013 میں جب مسلم لیگ ن اقتدار میں آئی اس وقت بیرونی قرضہ 61 بلین ڈالر تھا۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ نہ ہونے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے میں ناکامی کی وجہ سے بیرونی شعبے دباؤ میں رہے، جون 2013 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ یا بیرونی آمدنی اور ادائیگیوں کے درمیان فرق، جی ڈی پی کا ایک اعشاریہ ایک فیصد یعنی 2.5 بلین ڈالر تھا جبکہ 2016-17 کے مالی سال کے اختتام پر یہ اعداد شمار 12.1 بلین ڈالر یا جی ڈی پی کے 4 فیصد کے برابرپہنچ چکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے سستے اور فوری انصاف، سول سورسز میں ریفارمز، پولیس کو غیر سیاسی بنانے، غیر جانبدار اور آزاد احتساب کے نظام، ٹیکس ری سٹرکچرنگ، تعلیم اور صحت کے شعبے میں اصلاحات لانے کے جو وعدے کئے تھے ان میں سے کسی پر عملدرآمد نہیں کیا۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ نگران سیٹ اپ کو کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرنا چاہئے اور کرنسی کی قدر میں کمی جیسے دیگر بڑے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کو کرنسی کی قدر کو مزید گرنے سے روکنے اور مقامی صنعتوں کو لاحق خطرات سے بچانے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی بحالی کے لئے پالیسی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیرکوئی ملک ترقی اور خوشحالی کی منازل حاصل نہیں کر سکتا اس لئے نگران حکومت کو ملک میں سیاسی استحکام کے قیام کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں اور اپنی تمام توانائیاں اور توجہ منصفانہ، آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد پو مرکوز کرنی چاہیئں کیونکہ یہ سیاسی استحکام اور ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے۔