مقبوضہ کشمیر، نیشنل فرنٹ کا نعیم خان اور دیگر نظر بندوں کی عید سے قبل رہائی کا مطالبہ

تنازعہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا ،ْ جاوید میر، امتیاز ریشی

جمعہ جون 16:44

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میںجموں کشمیر نیشنل فرنٹ نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ نعیم احمد خان اور نئی دلی کی تہاڑ جیل میں میں نظربند دیگر کشمیریوںکو عیدالفطر سے قبل رہا کرے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق نیشنل فرنٹ کے ترجمان نے سرینگر میںجاری ایک بیان میں کہا کہ تنظیم کے چیئرمین نعیم احمد خان اور دیگر کشمیریوںکو محض سیاسی عقائد کی بنیاد پر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے جو انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔

انہوںنے کہا کہ بھارت کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے مگر مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے ساتھ وہ جو کچھ کر رہا ہے وہ اسکے جمہوری دعوئوں کی نفی کرتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ نعیم احمد خان اور نظر بندرہنمائوں کا قصور محض یہ ہے کہ وہ جموں کشمیر کو ایک متنازع خطہ سمجھتے ہیں اور مطالبہ کررہے ہیں کہ اس تنازع کو کشمیریوں کی مرضی و خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہا کہ نئی دلی کوسمجھ لینا چاہئے کہ وہ اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو ہرگز دبا نہیں سکتا۔ دریں اثنا حریت رہنما سجاوید احمد میر نے سرینگر کے علاقے حضرت بل میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر کو حل کئے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوںنے کہا کہ جنگ بندی کا بھارتی اعلان محض ایک ڈھونگ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ عروج پر ہے۔

جاوید میر نے کہا بھارتی فوجی شہداء کے قبروں کی بے حرمتی اور رات کے وقت گھروں میں گھس کر خواتین ، بچوں اور معمر افرادسمیت مکینوںکی سخت مار پیٹ کر تے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری اپنے پیدائشی حق، حق خود ارادیت کے حصول کیلئے بیش بہا قربانیاں دے رہے ہیں جو ہرگز رائیگاں نہیںجائیں گی۔۔ جاوید میر نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت پر دبائو ڈالے ۔

جموں کشمیر ینگ مینز لیگ کے چیئرمین امتیاز احمد ریشی، ضلع بڈگام کے علاقے کھاٹھواری میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت رہنمائوں کی طرف سے مذاکرات کی جو عوت دی جارہی ہے وہ مہم اور غیر واضح ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کشمیری اپنا پیدائشی حق ، حق خود ارادیت مانگ رہے ہیںجسکا وعدہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی ان کے ساتھ کیا تھاجبکہ اقوام متحدہ نے بھی اس حوالے سے کئی قراردادیں پاس کر رکھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا بھارتی اعلان محض ایک ڈرامہ ہے کہ جبکہ بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے کشمیریوں کا قتل عام جاری ہے۔ اجتماع سے غلام محمد میر اور طہور صدیقی نے بھی خطاب کیا۔