سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیڈ کا وفاقی دارالحکومت میں پانی کی شدید قلت کا نوٹس ،

میئر اسلام آباد اور نجی تعلیمی اداروں کی طرف سے جولائی اور اگست میں فیسیں وصول کرنے پر پیرا کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا

جمعہ جون 16:51

اسلام آباد ۔ یکم جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیپٹل ایڈمنسٹریشن اینڈڈویلپمنٹ (کیڈ) نے وفاقی دارالحکومت میں پانی کی شدید قلت کا نوٹس لیتے ہوئے میئر اسلام آباد اور نجی تعلیمی اداروں کی طرف سے جولائی اور اگست میں فیسیں وصول کرنے پر پیرا کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت کیڈ ، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن کے کام کے طریقہ کار،، کارکردگی اور بجٹ کے معاملات کے علاوہ سینیٹر ثمینہ سعید کے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے اسلام آبادکے بازاروں میں اشیاء خورد نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سینیٹر محمد اعظم خان سواتی کے اسلام آباد کلب اینڈ مینجمنٹ بل 2017 اور اسلام آباد گن اینڈ کنڑی کلب 2017 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

سیکرٹری کیڈ ثاقب علی اور جوائنٹ سیکرٹری عالمگیر احمد خان نے وزارت کیڈ کے کام کے طریقہ کار،،،کار کردگی، بجٹ اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد اپریل2011ء میں نئی وزارت کیڈ قائم کی گئی جس کواسلام آباد کے امور چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ادارے کا ڈویلپمنٹ بجٹ 15 ارب ، نان ڈویلپمنٹ 21 ارب ہے۔ کل ملازمین 236 ہیں۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کے تعلیمی اصلاحاتی پروگرام کے تحت پانچ ارب روپے فراہم کیے گئے جس کے تحت تعلیمی اداروں کو جدید تقاضوںکے مطابق استوار کیا جارہا ہے۔ 226 کمپیوٹر لیبز قائم ہو چکی ہیں۔ 200 بسوں میں سی70 خریدی جا چکی ہیں اور بقیہ 130 کا پراسس مکمل ہو چکا ہے۔ کیڈ کے پاس اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ سرکاری 423 تعلیمی ادارے بھی ہیں جن میں 2 لاکھ13 ہزار بچے زیر تعلیم ہیں جس کو فیڈرل ڈائریکٹو ریٹ آف ایجوکیشن کنڑول کر رہا ہے۔

اسلام آباد کو تمباکو فری شہر بنانے کیلئے پروگرام شروع ہے اور اس حوالے سے متعدد اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں بزرگ لاوارث شہریوں کیلئے اولڈ ایج ہوم قائم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے منشیات کے رجحان کو بھی کنڑول کرنے کیلئے اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کو ملک کے باقی شہروں کیلئے رول ماڈل ہونا چاہیے مگر بدقسمتی کی بات ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے لوگ قطاروں میں لگ کر پانی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔

سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ سی ڈی اے مارگلہ کی پہاڑیوں پر لگی آگ کو مؤثر کنڑول کرنے کے اقدامات کیوں نہیں کرتا جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ سی ڈی اے کے اختیارات کچھ چیئرمین سی ڈی اے کے پاس ہیں اور کچھ میئر کے پاس ہیں۔ میئر وزارت داخلہ کو جوابدہ ہے اور یہ چیزیں میئر کے اختیار میں ہے کہ کنڑول کرے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی یومیہ پانی کی طلب 120 ملین گیلن ہے جبکہ سپلائی 59 ملین گیلن ہے اور اس میں سے بھی 30 فیصد پانی ضائع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

اسلام آباد کی پانی کی سپلائی سمبلی ڈیم ، خانپور ڈیم اور 197 ٹیوب ویل سے ہوتی ہے جن میں سے 157 ٹیوب ویل خراب ہیں۔ڈائریکٹر فیڈرل ڈائریکٹو ریٹ ایجوکیشن نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ یہ ادارہ 1967ء میں قائم ہوا ، پرائمری سے ماسٹر تک تعلیم دی جاتی ہے۔ 423 تعلیمی ادارے ہیں جن میں 2.13 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں۔ ٹیچنگ سٹاف 9663 ہے جبکہ نان ٹیچنگ سٹاف 4423 ہے۔

سینیٹرز کلثوم پروین ، میر محمد یوسف بادینی اور ثمینہ سعیدنے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں ڈیلی ویجز اور کنڑیکٹ اساتذہ2011 سے مستقل ہونے کیلئے مختلف اداروںکے پاس خوار ہو رہے ہیں مگر قائمہ کمیٹی کی واضح سفارشات کے باوجود انہیں ریگولر نہیں کیا گیا جس پر قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سابق وزیراعظم پاکستان نے گزشتہ روز ایک کمیٹی تشکیل دے کر معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔

سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ اسلام آباد کی آبادی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے تعلیمی ادارے کم ہیں موجودہ سکولوں میں ڈبل شف لگا کر شہریوں کی مشکلات کو کم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ بچوں کے داخلے کیلئے مجھے خود سیکرٹری تک جانا پڑا عام شہری کا کیا حال ہوگا۔ قائمہ کمیٹی نے نجی تعلیمی اداروں کی طرف سے عدالتی حکم کے برعکس جولائی اور اگست کی فیس وصول کرنے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے پیرا کو آئندہ اجلا س میں طلب کر لیا۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ اسلام آباد وائلڈ لائف میں ایک گارڈ کو قتل کر دیا گیا تھا کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اس بارے رپورٹ فراہم کی جائے۔ سینیٹر محمد یوسف بادینی نے کہا کہ خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو بریف کیا جائے۔ قائمہ کمیٹی کو ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ اسلام آباد کے ہفتہ وار بازاروں میں قیمتوں کو مقرر کرنے کیلئے منڈی سے ایک دن پہلے قیمتیں حاصل کی جاتی ہیں اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے ڈپٹی ڈائریکٹر و دیگر عملہ فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

قائمہ کمیٹی نے ہفتہ وار بازاروں میںسرپر ائز وزٹ کرنے اور معیار کو ربرقرار رکھنے کی ہدایت کر دی۔ قائمہ کمیٹی نے سینیٹر اعظم خان سواتی کے بلز کے بارے میں فیصلہ کیا کہ آج کمیٹی کے اجلاس میں وزارت اس کے ماتحت اداروں کے کام کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کا ایجنڈا تھا معزز سینیٹر کے بلز کو پڑھ کر آئندہ اجلاس میں تفصیلی جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔

سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ اسلام آباد کلب کی ایک ملازمہ کا قتل ہوا تھا آئندہ اجلاس میں اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ اسلام آباد کلب کی ممبر شپ کی ایک سال پہلے فیس جمع کرائی تھی مگر انتظامیہ نے ممبر شپ نہیں دی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار نے کہا کہ وزارت کیڈ کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے وزارت اراکین کمیٹی کے ساتھ ملکر سسٹم کو ٹھیک کریں گے اور ایسی حکمت عملی اختیار کریں جس سے ملک و عوام کو فائدہ ہو اور درپیش مسائل کا حل ممکن ہو سکے۔

کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز میر محمد یوسف بادینی، سردار محمد شفیق ترین، سجاد حسین طوری، کلثوم پروین، ثمینہ سعید، سعدیہ عباسی اور محمد اعظم خان سواتی کے علاوہ سیکرٹری کیڈ ثاقب علی، ایڈیشنل سیکرٹری کیڈ، جوائنٹ سیکرٹری کیڈ عالمگیر احمد خان، ڈائریکٹر ایف ڈی ای، سیکرٹری اسلام آباد کلب، سیکرٹری گن اینڈ کنڑی کلب اور دیگر حکام نے شرکت کی۔