نوازشریف کے گلف اسٹیل کے کاروبار میں شامل ہونے کی دستاویزات نہیں ملیں ،ْواجد ضیاء

زبانی شواہد بھی نہیں ملے جو ظاہر کریں نوازشریف ہل میٹل کی طرف سے ڈیل کرتے ہوں ،ْ بیان

جمعہ جون 16:51

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں جرح کے دوران جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے بتایا ہے کہ ایسی دستاویزات نہیں ملیں کہ نوازشریف گلف اسٹیل کے کاروبار میں کسی بھی طرح شامل رہے اور کسی بھی حیثیت میں گلف اسٹیل کا کاروبار سنبھالا۔ جمعہ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کی۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء پر جرح جاری رکھی۔جرح کے دوران واجد ضیاء نے بتایا کہ ایسا دستاویزی ثبوت نہیں ملا کہ نواز شریف کو ہل میٹل کا کاروبار چلانے کی اتھارٹی دی گئی ہو اور ہل میٹل سے نوازشریف کو قرض لینیکا اختیار ملا ہو جبکہ ایسی کوئی دستاویز بھی نہیں ملی کہ نوازشریف ہل میٹل کی طرف سے مالی اداروں سے ڈیل کرتے ہوں۔

(جاری ہے)

واجد ضیاء نے کہا کہ زبانی شواہد بھی نہیں ملے جو ظاہر کریں نوازشریف ہل میٹل کی طرف سے ڈیل کرتے ہوں۔جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ ایسی دستاویزات نہیں ملیں کہ نوازشریف گلف اسٹیل کے کاروبار میں کسی بھی طرح شامل رہے ،ْ کسی بھی حیثیت میں گلف اسٹیل کا کاروبار سنبھالا، گلف اسٹیل کیلئے قرضہ لیا ہو یا نواز شریف گلف اسٹیل کی فروخت میں شامل رہے۔

خواجہ حارث نے واجد ضیاء سے سوال کیا کہ آپ کی تفتیش کے مطابق ہل میٹل کب رجسٹرڈ ہوئی اس پر جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ جو دستاویز پیش کیں ان کے مطابق 2005 میں رجسٹرڈ ہوئی۔اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ آپ اپنی تفتیش کا بتائیں کب قائم ہوئی واجد ضیاء نے بتایا کہ ملزمان کی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق 2005 میں رجسٹرڈ ہوئی، کسی گواہ نے بیان نہیں دیا کہ نواز شریف ہل میٹل قائم کرنے میں شامل ہوں، کسی گواہ نے یہ بھی نہیں کہا کہ نواز شریف نے ہل میٹل قائم کرنے کے لیے رقم دی ہو، جے آئی ٹی تفتیش میں تعین نہ کرسکی ہل میٹل کمپنی،، واحد ملکیت یا پارٹنر شپ پر مبنی ہے۔

وکیل صفائی نے سوال کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے نواز شریف سے پوچھا کہ ہل میٹل کیسے قائم ہوئی اس پر واجد ضیاء کا کہنا تھاکہ جے آئی ٹی نے نواز شریف سے دوران تفتیش ایسا کوئی سوال نہیں پوچھا، ان سے نہیں پوچھاکہ ہل میٹل کے لیے فنڈز کس نے دیے، نواز شریف سے یہ بھی نہیں پوچھاکہ ہل میٹل کامالک کون ہی کاروبار کون چلاتا ہی واجد ضیاء نے کہا کہ اس پر از خود بھی جواب دینا چاہتا ہوں ،ْیہ باتیں نواز شریف کے بیان میں نہیں ہیں۔

خواجہ حارث نے سوال کیا کہ آپ نیسوال کیا کہ ہل میٹل سے آنے والا پیسہ سیاست میں استعمال ہوتا تھا اس پر واجد ضیاء نے جواب دیا کہ اس سوال پر نواز شریف کا جواب نہیںمیں تھا۔جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ کسی گواہ نے نہیں کہاکہ بیرون ملک قیام میں حسین نواز،، نواز شریف کے زیر کفالت تھے۔بعد ازاں احتساب عدالت نے نوازشریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس میں واجد ضیاء پر جرح پیر تک ملتوی کردی۔