پنجاب میں فواد چوہدری نہیں، میں معاملات دیکھ رہا ہوں

نگران وزیراعلیٰ پنجاب کیلئےاب چارنام فائنل کیے ہیں، نگراں وزیراعلیٰ کے ناموں پرچیئرمین پی ٹی آئی سے مشاورت بھی ہوئی۔ پی ٹی آئی رہنماء میاں محمودالرشید کی میڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ جون 16:47

پنجاب میں فواد چوہدری نہیں، میں معاملات دیکھ رہا ہوں
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ یکم جون 2018ء) : تحریک انصاف کے رہنماء اور سابق اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید نے کہا ہے کہ پنجاب میں فواد چوہدری نہیں ،میں معاملات دیکھ رہاہوں،نگران وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے اب چارنام فائنل کیے ہیں، نگراں وزیراعلیٰ کے ناموں پرچیئرمین پی ٹی آئی سے مشاورت بھی ہوئی۔میاں محمودالرشید نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں نگراں وزیراعلیٰ کے معاملات میں نے دیکھنے ہیں میں چیئرمین پی ٹی آئی سے رابطے میں ہوں ۔

فواد چوہدری کا کام مرکز میں ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق میاں محمود الرشید نے کہا کہ نگراں وزیراعلیٰ کیلئے 4نام دیے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اب حسن عسکری، ایاز میر، اوریامقبول جان اور یعقوب اظہار کے چار نام دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں فواد چوہدری معاملات کو نہیں دیکھ رہے۔

(جاری ہے)

پنجاب میں تمام معاملات کو میں دیکھ رہاہوں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ جاری ہے۔

جس کے باعث فواد چوہدری کا میسج تاخیر سے ملا۔انہوں نے کہاکہ نگراں وزیراعلیٰ کے ناموں پرچیئرمین پی ٹی آئی سے مشاورت بھی ہوئی ہے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف میں سابق اپوزیشن لیڈر اور مرکزکے درمیان رابط کی کمی ہے۔اپوزیشن لیڈر کو پہلے بھی نظر انداز کیا گیا آج پھر فواد چوہدری نے اپوزیشن لیڈر کو دفاعی پوزیشن پرکھڑا کردیا ہے۔

ناصر درانی اور حسن عسکری اور ناصرکھوسہ کے نام پربھی اپوزیشن لیڈرسے مشاورت نہیں کی گئی بلکہ یہ نام مرکز سے جاری کیے گئے۔جبکہ اگر دیکھا جائے تواپوزیشن لیڈ ہی آئینی طور ہر نگراں وزیراعلیٰ کا نام بھیجنے کا پابند ہے۔ فواد چوہدری کی جانب سے چوتھا نام جاری کرنے پرعمران خان نے سابق اپوزیشن لیڈرمیاں محمود الرشید کو فون کیا اور ان کو آگاہ کیا کہ آپ چار ناموں کا اعلان کردیں تاکہ معاملہ حل ہوجائے۔

اس سے قبل تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا کہ آج دیے گئے 3ناموں پرمیں سے اتفاق ہوجائے گا۔ایازمیر، حسن عسکری اور یعقوب اظہار کا نام فائنل ہے۔انہوں نے کہاکہ پارٹی میں رابطوں کا فقدان ہے۔کوآرڈینیشن میں بہتری آنی چاہیے۔انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ نگراں وزیراعلی کے نام سامنے آرہے ہیں لیکن اس میں اتنی پریشانی والی بات نہیں ہے۔

ناصر درانی نے معذرت کرلی،ناصر کھوسہ کا نام واپس لے لیا گیا۔نام فائنل کرنا محمودالرشید کا کام ہے لیکن مجھے جوپارٹی لائن دے گی میں توان پربات کروں گا۔سینئرسیاسی تجزیہ کارسلمان غنی نے کہا کہ فواد چوہدری ابھی بھی کنفیوژن میں ہیں۔ تحریک انصاف کے حوالے سے ایسی کیفیت پیدا ہورہی ہے کہ ان میں سنجیدگی نہیں ہے۔۔پی ٹی آئی کو آئندہ حکومتی جماعت کے طور پردیکھا جارہا ہے۔

لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔معید پیرزادہ نے کہاکہ پی ٹی آئی میں ہوم ورک نہیں کرکے رکھا ہوا تھا۔۔مسلم لیگ ن یا پیپلزپارٹی نے مکمل ہوم ورک کرکے رکھا ہوتا ہے۔وہ بڑی جماعتیں ان پرنوازشریف یا آصف زرداری کی مکمل گرفت ہے۔ تحریک انصاف نے جن کا نام دیا ان سے مشاورت ہی نہیں کی۔ جس کے باعث کچھ ناموں نے معذرت کرلی۔سیاسی لحاظ سے پی ٹی آئی بڑی جماعت ہے۔