پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہارٹ وال کی خریداری میں بے ضابطگیاں،نیب نے سپریم کورٹ میں عبوری رپورٹ پیش کر دی

جمعہ جون 18:24

لاہور۔یکم جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہارٹ وال کی خریداری میں بے ضابطگیوں سے متعلق نیب نے سپریم کورٹ میں عبوری رپورٹ پیش کر دی،،عدالت نے نیب سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کمشنر اوورسیز پاکستانی افضال بھٹی کو معطل کر دیا۔۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،عدالتی حکم پر ڈی جی نیب شہزاد سلیم نے پی آئی سی میں مبینہ کرپشن اور پی آئی سی بورڈ کے ممبر افضال بھٹی کی بطور اوورسیز پاکستانی کمشنر تعیناتی سے متعلق عبوری رپورٹ عدالت میں پیش کی، ڈی جی نیب نے عدالت کو بتایا کہ پی آئی سی میں دل کے وال کی خریداری میں بے ضابطگیاں پائی گئیں، کرپشن بے نقاب کرنے پر کنٹریکٹ فارماسسٹ فریحہ مجید کو بدنیتی پر برطرف کیاگیا،انہوں نے افضال بھٹی کی تعیناتی سے متعلق عبوری رپورٹ پیش کر دی، جس پر بینچ کے فاضل رکن مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اکاؤنٹنٹ کا تجربہ رکھنے والے شخص کا اوورسیز کمشنر کے عہدے سے کیا تعلق ہی ، چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کی عبوری رپورٹ آ چکی ہے، اوورسیز کمشنر نے کس حیثیت سے گیارہ لاکھ تنخواہ اور مراعات وصول کیں،تنخواہ کی مد میں جتنے پیسے وصول کیے ہیں عدالت ایک ایک دھیلہ واپس لے گی، عدالت نے دو ماہ میں تفصیلی رپورٹ طلب کر لی، دوران سماعت درخواست گزار فارماسسٹ فریحہ مجید نے عدالت کو بتایا کہ پی آئی سی کے کرپٹ مافیا کی وجہ سے انہیں دھکے کھانے پڑے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ عدالت نے اوورسیز کمشنر افضال بھٹی کا نام پہلے ہی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔