’غیرت کے نام پر قتل‘ کا الزام: بھارتی باشندہ نوکری سے برخاست

بھارتی ریاست کیرالا کے باشندے سائنو پر بہنوئی کو قتل کرنے کاالزام ہے

جمعہ جون 17:58

دوبئی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ یکم جُون 2018ء) دُوبئی میں ملازمت کرنے والے بھارتی شہری جس پرگزشتہ ہفتے عجلت میں لی گئی رخصت کے دوران اپنے بہنوئی کو قتل کرنے کا الزام سامنے آیا ہے‘ اُس کی رواں ہفتہ ملازمت ختم کر دی جائے گی۔ یہ بات اس کی فرم کے مالک کی جانب سے کی گئی۔ سائنو چکیو پر الزام ہے کہ اُس نے گزشتہ ہفتے دُبئی سے آ کر گھر والوں کی مرضی کے بغیر بیاہ رچانے والی اپنی بہن کے خاوند کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر ڈالا تھا۔

دُوبئی کی ایک کمپنی میں کام کرنے والا 26 سالہ الیکٹریشن بھارت میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے روز بھارتی ریاست کیرالاسے تعلق رکھنے والا سائنو ایمرجنسی چھُٹی پر وطن واپس گیا تھا جہاں اس نے مبینہ طور پر اپنے بہنوئی کو قتل کر ڈالا۔

(جاری ہے)

جس سے مقامی آبادی میں بہت اشتعال پایا جاتا ہے۔ فرم کے مالک ے مطابق وہ سائنو کو فوری رخصت دینے پر بہت پشیمان ہے لیکن وہ میرے آگے رویا گِڑگڑایا تھا کہ اُس کی بہن گھر سے بھاگ گئی ہے اور اُس کا باپ بیمار ہے۔

آخر اس کی منت سماجت پرمیں نے اُسے چھُٹی دے دی۔ مگر ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس معاملے کو سمجھداری سے نمٹائے اور اپنی بہن کے ساتھ مشتعل ہونے کے بجائے اُسے پیار سے راہِ راست پر لائے۔ اگر اُسے بھارت کی عدالت کی جانب سے ضمانت مِل بھی گئی‘ اور وہ دوبئی آ گیا تو بھی اُسے ملازمت پر نہیں رکھا جائے گا۔ واقعات کے مطابق سائنو کی 20 سالہ بہن نِینو نے والدین کی رضا مندی کے بغیر گھر سے بھاگ کر 23 سالہ کیون جوزف نامی شخص سے شادی رچا لی جو نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے غریب گھرانے کا فرد تھا۔

سائنو اور اُس کے والد پچاس سالہ چاکو جان سمیت 14 افراد کے خلاف اس اغوا اور قتل کی واردات کا کیس درج کیا گیا ‘ جس میں دو پولیس والے بھی قتل میں معاونت کے جُرم میں نامزد ہیں۔مقامی پولیس جس نے نینو کی جانب سے اپنے خاوند کیون کی گمشدگی کی اطلاع پر بروقت کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہے ‘ اب معاملے کی چھان بین شروع کر دی ہے۔

سانیو اور اُس کے والد نے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سائنو اور اُس کا کزن علاقے میں اپنی جرائم پیشہ سرگرمیوں کی وجہ سے بدنام ہیں۔ جبکہ سائنو کی فرم کے مطابق ایمپلائر کے مطابق ملزم نے اُس کے ہاں اپنی پانچ سالہ ملازمت کے دوران کسی قسم کے مجرمانہ مزاج یا پُرتشدد رویے کا مظاہرہ نہیں کیا۔ وہ بہت باقاعدگی اور ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دینے والا فرد ہے۔