مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کارروائی سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں عمل میں آئی ہے،میئر کراچی

جمعہ جون 20:03

مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کارروائی سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کارروائی سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں عمل میں آئی ہے، ہم کسی کو بے روزگار نہیں کرنا چاہتے تاہم اگر متاثرین کے پاس ایسے ثبوت ہیں جن سے ثابت ہوسکے کہ یہ رفاعی نہیں بلکہ کمرشل پلاٹس تھے تو ایسے معاملات کا ازسرنو جائزہ لیا جاسکتا ہے، پانی و سیوریج ہماری ذمہ داری نہیں لیکن شہریوں کی مشکلات کے پیش نظر ان مسائل کے حل کے لئے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے، شہریوں کو سہولت پہنچانا اولین ترجیح ہے ، دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے شہر میں تعمیر و ترقی کا سفر جاری رہے گا، یہ بات انہوں نے بلدیہ ٹائون اور مدینہ کالونی ملیر کنٹونمنٹ سے ملاقات کے لئے آنے والے شہریوں کے دو علیحدہ وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، چیئرمین اراضیات کمیٹی سید ارشد حسن، چیئرمین ورکس کمیٹی حسن نقوی، ڈائریکٹر جنرل ورکس اقتدار احمد، سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن مسعود عالم، ڈائریکٹر ٹیکنیکل ٹو میئر ایس ایم شکیب اور دیگر افسران بھی موجود تھے، بلدیہ ٹائون سے آئے ہوئے وفد نے میئر کراچی کو بلدیہ ٹائون میں مسمار کئے گئے میرج لانز کے متعلق بتایا انہوں نے کہا کہ ان لانز کے ختم ہونے کی وجہ سے ان کا کاروبار یکسر ختم ہوگیا ہے اور انہیں اور ان کے خاندانوں کو شدید معاشی پریشانی کا سامنا ہے لہٰذا ان کے اس مسئلے کا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے ، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ میرج لانز کے خلاف کارروائی سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں کی گئی ہے اور اس کا مقصد رفاعی پلاٹس پر ہونے والی کمرشل تعمیرات کا خاتمہ کرنا ہے، شہر کے وسیع تر مفاد میں ایسا کرنا ناگزیر تھا لیکن اگر متاثرہ افراد کے پاس اپنے دعوے کے حق میں کاغذات یا دیگر ثبوت موجود ہیں کہ ان کی تعمیرات رفاعی پلاٹ پر نہیں بلکہ کمرشل پلاٹس پر قانونی طور پر کی گئی تھیں تو ایسے معاملات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے اور جو بھی ممکن ہو ریلیف انہیں فراہم کیا جاسکتا ہے تاہم رفاعی پلاٹس شہریوں کی امانت ہیں اور ایسی تمام جگہوں پر کمرشل سرگرمیوں کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی، انہوں نے کہا کہ شہر میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کا مقصد کسی کا روزگار چھیننا نہیں، نہ ہی ہم کسی کو بلاجواز تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں بلکہ شہر اورشہر یوں کے وسیع تر مفاد میں سپریم کورٹ کے احکامات اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی روشنی میں انسداد تجاوزات کا عمل جاری ہے ، ملاقات کے دوران مدینہ کالونی یوسی 28- اور29 سے آئے ہوئے وفد نے میئر کراچی کو اپنے علاقے میں پانی کی شدید کمی کے مسائل سے آگاہ کیا اور دیگر مسائل بھی بتائے، انہوںنے کہا کہ یونین 28- اور 29 کے مکین پانی کو ترس گئے ہیں اور علاقے میں صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال اور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ جیسے مسائل بھی انہیں درپیش ہیں، میئر کراچی نے انہیں یقین دلایا کہ اگرچہ فراہمی و نکاسی آب حکومت سندھ کی ذمہ داری تاہم شہریوں کی مشکلات کے پیش نظر بلدیہ عظمیٰ کراچی اور دیگر ضلعی بلدیات اپنے وسائل استعمال کرکے پانی و سیوریج کے نظام کو ٹھیک کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں اور مدینہ کالونی ملیر میں بھی پانی کی کمی کے مسئلے کو دور کرنے کے لئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری خواہ کسی بھی علاقے میں رہتے ہوں ہمارے لئے برابر ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ شہر کے وسطی علاقوں کے ساتھ ساتھ مضافاتی علاقوں میں بھی ترقی کا عمل جاری رہے اور پورا شہر ایک ساتھ ترقی کے منازل طے کرے، انہوں نے کہا کہ ہمارے وسائل محدود ضرور ہیں لیکن ہم نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ شہریوں کو دیرینہ مسائل سے نجات دلانے کے لئے جہاں تک بھی ممکن ہو ریلیف فراہم کیا جائے، اس مقصد کے تحت تمام دستیاب وسائل کو استعمال کر رہے ہیں اور شہر کے وسیع تر مفاد میں عوامی فلاح و بہبود کے کام جاری رہیں گے تاکہ شہریوں کے روزمرہ مسائل حل ہوں اور ان کی وجہ سے درپیش تکالیف سے نجات مل سکے۔