سپریم کورٹ میں پی آئی سی میں ہارٹ وال کی خریداری میں بے ضابطگیوں سے متعلق کیس ،کمشنر اوورسیز پاکستانی افضال بھٹی معطل

پی آئی سی میں ہارٹ وال کی خریداری میں بے ضابطگیوں پائی گئیں‘ نیب کی عبوری رپورٹ ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

جمعہ جون 20:03

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہارٹ وال کی خریداری میں بے ضابطگیوں سے متعلق کیس میں پی آئی سی بورڈ کے رکن و کمشنر اوورسیز پاکستانی افضال بھٹی کو معطل کر دیا جبکہ نیب سے معاملے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ۔ گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہارٹ وال کی خریداری میں بے ضابطگیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو ((نیب )) لاہور شہزاد سلیم نے عدالتی حکم پر پی آئی سی میں مبینہ کرپشن اور پی آئی سی بورڈ کے ممبر افضال بھٹی کی بطور اوورسیز پاکستانی کمشنر تعیناتی سے متعلق عبوری رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

(جاری ہے)

ڈی جی نیب نے عدالت کو بتایا کہ پی آئی سی میں ہارٹ وال کی خریداری میں بے ضابطگیوں پائی گئیں، اچھی کارکردگی اور کرپشن بے نقاب کرنے پر کنٹریکٹ فارماسسٹ فریحہ مجید کو بدنیتی پر برطرف کیا گیا۔

ڈی جی نیب نے افضال بھٹی کی تعیناتی سے متعلق عبوری رپورٹ بھی پیش کی، جس پر فاضل بنچ نے استفسار کیا کہ اکائونٹنٹ کا تجربہ رکھنے والے شخص کا اوورسیز کمشنر کے عہدے سے کیا تعلق ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کی عبوری رپورٹ آ چکی ہے، اوورسیز کمشنر نے کس حیثیت سے 11لاکھ روپے تنخواہ اور مراعات وصول کی۔۔چیف جسٹس نے افضال بھٹی کو معطل کرتے ہوئے قرار دیا کہ تنخواہ کی مد میں جتنے پیسے وصول کیے ہیں عدالت ایک ایک دھیلہ واپس لے گی۔

عدالت نے نیب سے دو ماہ میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔درخواست گزار فارماسسٹ فریحہ مجید نے عدالت کو بتایا کہ پی آئی سی کے کرپٹ مافیا کی وجہ سے انہیں دھکے کھانے پڑے، عدالت نے اوورسیز کمشنر افضال بھٹی کا نام پہلے ہی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔