چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سیکرٹری قانون پنجاب کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

جمعہ جون 20:03

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سیکرٹری قانون پنجاب ابولحسن نجمی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار وکیل میاں ظفر اقبال کلانوری نے کہا کہ ریٹائرڈ سیکرٹری اسمبلی ابولحسن نجمی کومیرٹ اور قوانین کے برعکس سیکرٹری قانون پنجاب لگایا گیا،75 سالہ ابولحسن نجمی کو تین بار غیر قانونی طور پر سیکرٹری قانون کے عہدے پر توسیع دی گئی۔

(جاری ہے)

قوانین اور عدالتی فیصلے کے تحت 63 برس سے زائد عمر کے شخص کو عہدے پر تعینات نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کے باوجود ابولحسن نجمی کو سیکرٹری قانون پنجاب مقرر کر دیا۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ سیکرٹری قانون پنجاب نے اپنے فرائض سے غفلت کی جس کی وجہ سے ثالثی اور مصالحتی بل بننے کے باوجود اسے منظوری کے لئے اسمبلی میں نہیں بھجوایا گیا،شہریوں کو جان بوجھ کر سستے اور فوری انصاف سے دور رکھا گیا اس لیے سیکرٹری قانون پنجاب کو عہدے سے ہٹایا جائے ۔ جس پر فاضل عدالت نے سیکرٹری قانون پنجاب ابوالحسن نجمی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔