چیف جسٹس ثاقب نثار نے سیکرٹری قانون پنجاب ابولحسن نجمی کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر صوبائی سیکرٹری ابولحسن نجمی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

جمعہ جون 20:45

چیف جسٹس ثاقب نثار  نے سیکرٹری قانون پنجاب ابولحسن نجمی کو عہدے سے ہٹانے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سیکرٹری قانون پنجاب ابولحسن نجمی کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر صوبائی سیکرٹری ابولحسن نجمی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ۔

(جاری ہے)

درخواست گزار وکیل میاں ظفر اقبال کلانوری نے کہا کہ ریٹائرڈ سیکرٹری اسمبلی ابولحسن نجمی کومیرٹ اور قوانین کے برعکس لاء سیکرٹری قانون پنجاب لگایا گیا،75 سالہ ابولحسن نجمی کو تین بار غیر قانونی طور پرسیکرٹری قانون کے عہدے پر توسیع دی گئی،انہوں نے کہاکہ قوانین اورعدالتی فیصلے کے تحت 63 برس سے زائد عمر کے شخص کو عہدے پر تعینات نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کے باوجود ابولحسن نجمی جو سیکرٹری قانون پنجاب مقرر کر دیا۔

درخواست گزار نے دعوی کیا کہ سیکرٹری قانون پنجاب نے اپنے فرائض سے غفلت کی جس کی وجہ سے ثالثی اور مصالحتی بل بننے کے باوجود اسے منظوری کے لئے اسمبلی میں نہیں بھجوایا گیا،انہوں نے کہا کہ شہریوں کو جان بوجھ کر سستے اور فوری انصاف سے دور رکھا گیا اس لیے سیکرٹری قانون پنجاب کو عہدے سے ہٹایا جائے جس پر عدالت سیکرٹری قانون پنجاب ابوالحسن نجمی کو عدالت میں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔