سپریم کورٹ نے پنجاب یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلر کے لئے سرچ کمیٹی کی جانب سے بھجوائے گئے ناموں کی فہرست کو میرٹ پر مرتب نہ کرنے پر اعتراض عائد کر دیا

جمعہ جون 20:45

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) سپریم کورٹ نے پنجاب یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلر کے لئے سرچ کمیٹی کی جانب سے بھجوائے گئے ناموں کی فہرست کو میرٹ پر مرتب نہ کرنے پر اعتراض عائد کر دیا،،عدالت نے میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی مستقل تعیناتیوں سے متعلق سرچ کمیٹیوں سے جولائی کے پہلے ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی۔۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، چیف سیکرٹری پنجاب نے میڈیکل یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتیوں سے متعلق قائم سرچ کمیٹیوں کے حوالے سیرپورٹ پیش کر دی ، انہوں نے بتایا کہ میڈیکل یونیورسٹیز میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کے لیے سرچ کمیٹیاں جون تک اپنا کام مکمل کریں گی، چیف جسٹس نے کہا کہ سرچ کمیٹیاں نیک نیتی کے ساتھ اپنا کام کریں یہ وقت ملک کو اپنی خدمات لوٹانے کا ہے، عدالت کے روبرو پنجاب کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیز میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت کے روبرو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ لاہور کالج فار وومین یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی معطلی کا تحریری حکم نامہ نہیں ملا جس سے مشکلات پیش آ رہی ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ عظمی قریشی کے معاملے پر کون مشکلات پیدا کر رہا ہے ۔

(جاری ہے)

ایک ہی سیاسی شخصیت جنہیں بہت باتیں کرنی آتی ہیں چیف جسٹس نے کالج فار وومین یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی تقرری سے متعلق سماعت کل تک ملتوی کر دی، عدالت نے لاہور کالج فار وومین یونیورسٹی کی اراضی سگنل فری کوریڈور منصوبے کے لیے دینے کا ازخود نوٹس لے لیا، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نے بتایا کہ ٹیکسلا یونیورسٹی کے ڈاکٹر نیاز کو پنجاب یونیورسٹی کامستقل وائس چانسلر تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے آج ہی نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے گا، جسٹس اعجاز الاحسن نے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سے استفسارکیا کہ ڈاکٹر نیاز سرچ کمیٹی کے دئیے گئے ناموں میں سے میرٹ پر کتنے نمبر پر تھے ،،عدالت کا حکم بڑا واضح تھا کہ ختمی فہرست میرٹ کے مطابق مرتب کی جائے، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نے اعتراف کیا کہ فہرست میرٹ کی بجائے ناموں کی ترتیب کے حوالے سے مرتب کی گئی، چیف سیکرٹری نے کہا عدالتی فیصلے کے مطابق ہم سمری دوبارہ بھجوا دیتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جنہوں نے نام فائنل کیا اب تو وہ وزیراعلی نہیں رہے سمری کیسے جائے گی چیف سیکرٹری نے کہا کہ قانون میں سمری بھجوانے کی گنجائش موجود ہے، جس پر چیف جسٹس نے عدالت نے عدالتی فیصلے کے مطابق عملدرآمد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی۔